گیمز آف ایگزسٹنس, ایکسیپٹنس اینڈ پرزسٹنس !!!! بلال شوکت آزاد

دنیا اس وقت بہت تیزی سے بدل رہی ہے اور جتنی تیزی سے دنیا بدل رہی ہے اتنی ہی رفتار سے انسان تبدیلیوں کو قبول کرنے کے عمل سے گزر رہا ہے۔

آپ ہوسکتا ہے رائٹ یا لیفٹ ونگ سے تعلق رکھتے ہوں یا پھر ایک نئی اور مضحکہ خیز جہت سینٹرک سے آپ خود کو جوڑتے ہوں پر آپ احباب کی نذر یہ بات پورے وثوق سے کرتا چلوں کہ تمام مذاہب بلخصوص اسلام کی رو سے جس زمانے کو پر فتن اور پر شر قرار دیکر پیش گوئیاں کی گئیں اور آگاہ کیا گیا کہ اس دور میں کیسے جینا اور کس طرح مرنا ہے وہ تمام نشانیوں اور اشارات کی رو سے یہی دور ہے جس میں آپ اور ہم جی رہے ہیں, مطلب اس وقت دنیا میں کہیں بھی کسی بھی جگہ اعلانیہ اور پرشدید حق و باطل کا معرکہ بپا نہیں بلکہ آپ اور ہم جو کچھ بھی دیکھتے, سنتے, پڑھتے اور سمجھتے ہیں وہ سب دراصل اور درحقیقت گیمز آف ایگزسٹنس, ایکسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) کا ادنی سا نمونہ ہے۔

یہ وہ نادیدہ اور پراسرار جنگی کھیل ہے جو دنیا کے ہر ملک, مذہب, مسلک, معاشرے اور شعبہ زندگی میں اس وقت پوری شدومد سے جاری ہے جس پر کثیر جہتی محاذ کھلے ہوئے ہیں۔

اس جنگی کھیل میں کوئی اخلاقی اور آفاقی اصول اور پیمانہ رائج نہیں بلکہ بلا مبالغہ یہ سروائیول آف فٹسٹ کی دوڑ ہے۔

گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) سے مراد ہے کہ فریقین موجودگی یا وجود کو برقرار رکھنے, تسلیم کروانے اور مستقل بنیادوں پر اولین دونوں مقاصد کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کریں تاکہ سروائیول آف فٹسٹ کی دوڑ جیت کر طاقتور, بدستور موجود اور تسلیم شدہ فریق دنیا کی باگ دوڑ سنبھال کر نیو ورلڈ آرڈر رائج کرسکے۔

آپ حیران اور پریشان ہورہے ہونگے اب یہ کیا نئی تھیوری مارکیٹ میں لانچ کی جارہی ہے جبکہ اس سے قبل ہی ہم ففتھ جنریشن وار فیئر اور ہائبرڈ وار جیسی اصطلاحات سن سن کر پک چکے ہیں؟

تو میں آپ کی حیرانی اور پریشانی دور کردوں کہ دراصل ففتھ جنریشن وار فیئر اور ہائبرڈ وار فیئر جس کتاب کے ضخیم باب ہیں وہ درحقیقت گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) ہے جس میں کیا سپر پاورز, کیا سیکرٹ سوسائٹیز, کیا بزنس ٹائیکونز, کیا شوبز آئیکونز, کیا مافیا ورلڈ اور کیا تھرڈ ورلڈ سبھی کے سبھی شامل اور متحرک ہیں۔
آپ کو نہایت سادہ مثال سے سمجھاتا ہوں۔
آپ کو کبھی کبھی یہ خیال تو ستاتا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ پاک بھارت جنگوں کا نتیجہ کبھی بھی کسی ایک کی ہار یا جیت پر منتج نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ دونوں ملکوں کی عوام کے پاس اپنی جیت اور دوسرے کی ہار کے مضبوط ثبوت اور دلائل کے انبار ہوتے ہے لیکن چونکہ آپس میں مدلل مکالمے کی فضاء قائم نہیں تو دونوں ملکوں کی عوام اپنی اپنی ڈومین میں اپنی جیت اور دوسرے کی ہار کا جشن منا کر خوش ہولیتی ہے؟
یا
کبھی آپ کو یہ خیال ستایا ہو کہ روس اور امریکہ کو آخر کیا چیز افغانستان میں کھینچ لاتی ہے؟ کیا تیل یا گرم پانیوں تک رسائی موجودہ دور میں ایسا چمکتا ہوا ہدف ہے کہ جس کی خاطر ملکی معشیت اور عوام کی جان و مال کو داؤ پر لگایا جائے جبکہ دنیا خود کو گلوبل ویلیج کہتی ہو اور ملٹائی نیشن اقتصادی انجمنوں کی بھرمار ہو؟
یا
اکھنڈ بھارت, تکمیل پاکستان, گریٹر اسرائیل, یونائیٹڈ سٹیٹس آف مسلم امہ, یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ, یورپی یونین اور یونائیٹڈ سٹیٹس آف رشیا وغیرہ ایسی تھیوریز اور پریکٹیکلز ہیں جن کو ہم حق اور باطل کی جنگ یا مقابلہ کہہ کر کسی کے فریق بن سکیں؟ کیا یہ یونیٹی یا گریٹنس صرف اور صرف اپنی موجودگی یا وجود کی بقاء, تسلیمات اور دائمیت کی جنگ کا شاخسانہ تو نہیں؟

غرض آپ زندگی کے جس بھی شعبے اور جہت کو کنگھال لیں آپ کو ہر بندہ اور گروہ یہی کہتا ہوا ملے گا کہ وہی ٹھیک اور حق پر ہے لہذا اس کو جگہ دی جائے, تسلیم کیا جائے اور اس کے وجود کو مستقلاً برداشت کیا جائے وہ بھی راضی خوشی۔

کہیں ہمارے اردگرد قائم مقابلے کی فضاء کا مطلب یہی تو نہیں کہ کون دی بیسٹ ہے, کون نمبرون ہے, کون ناقابل تسخیر ہے اور کون مستقل ہے۔

تاکہ جو ان پیرامیٹرز سے میچ نہیں کرتا اس کو وننگ پارٹی قصہ پارینہ بنا دے اور پھر ریس وہیں سے کسی اور فریق کے ساتھ شروع کردے جہاں تک وہ جیت چکا اور سابقہ فریق کو ہڑپ کرچکا؟

ملکوں کی اندرون و بیرون سیاست و سفارت سے لیکر عسکری و اقتصادی اداروں تک یہ گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) جاری ہے تاکہ سروائیول آف فٹسٹ کا معرکہ جیت کر آخری بڑی جنگ کی تیاری ہوسکے جو واقعی معرکہ حق و باطل ہوگا اور جس میں ایک اور تین کا مقابلہ ہوگا وہ بھی آمنے سامنے پورے حق سے کہ ایک کو پتہ چل جائے گا تین حق پر ہیں اور وہ ایک باطل ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ یہ گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) اس وقت پاکستان میں بھی ہر گراؤنڈ پر جاری ہے خواہ وہ کارپوریٹ سیکٹر ہو, شوبز کی دنیا ہو, ایجوکیشن ورلڈ ہو, پولیٹکس ہو, ڈیفنس ہو, کامرس ہو, ذراعت ہو, میڈیا ہو یا سوشل میڈیا ہو غرض ہر بندہ دی بیسٹ اور نمبرون بننے کی چاہ لیے وجود کی بقاء, تسلیمات اور دائمیت کی جنگ لڑرہا ہے۔

اس جنگی کھیل کا گورکھ دھندہ اسقدر پیچیدہ ہے کہ صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ ہر انسان اس پرفتن دور میں شدید ترین اور ہلاکت خیز فتنوں میں جکڑا اور پھنسا ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.