موڈیز انویسٹرس سروس نے منگل 25 مارچ کو ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیل میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور غزہ میں جاری لڑائی سے ملک کی معیشت اور مالی استحکام متاثر ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کی اقتصادی ترقی اور سیکورٹی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہے، جس کے باعث ملک کے ہائی ٹیک سیکٹر کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ اسرائیل کی معیشت میں ہائی ٹیک سیکٹر کا اہم کردار ہے، جو حکومت کے لیے بڑا ٹیکس ریوینیو فراہم کرتا ہے۔
اس کے علاوہ، حکومت کی متنازعہ عدالتی اصلاحات اور جنگ کی وجہ سے بھی ملک کی مالیاتی صورتحال پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ موڈیز نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ یہ بگڑتی ہوئی صورتحال اسرائیل کی معیشت اور حکومت کی مالیاتی پوزیشن پر منفی اثر ڈال سکتی ہے اور ملک کے ادارہ جاتی نظام کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔ گزشتہ سال فِچ اور موڈیز دونوں نے اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ کو کم کر دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ مستقبل میں اسے مزید نیچے بھی کیا جا سکتا ہے۔ موڈیز کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ ابھی بھی خطرے میں ہے اور اگر معاشی حالات میں بہتری نہ آئی تو مستقبل میں مزید گراوٹ کا امکان ہے۔موڈیز نے اسرائیل کے معاشی چیلنجز پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو سنگین سیاسی اور سیکورٹی خطرات کا سامنا ہے، اور ملک کا سیاسی نظام انتہائی منقسم ہے جس کی وجہ سے حکومتی پالیسیوں کا نفاذ مشکل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ، مذہبی اقلیتوں کی کم اجرتوں کے باعث معاشی عدم مساوات اور سماجی تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر 2023 میں موڈیز نے اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ کو اے2 سے بی اے اے1 تک کم کر دیا تھا، جس کی وجہ سرکاری اداروں کا کمزور ہوتا معیار اور جنگ کے دوران بڑھتے ہوئے اخراجات بتائی گئی تھی۔ کریڈٹ ریٹنگ میں کمی سے حکومت، کاروباری اداروں اور عام لوگوں کے لیے قرض حاصل کرنا مہنگا ہو جاتا ہے۔
اس رپورٹ پر اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ وزیر خزانہ نے موڈیز کی رپورٹ کو غلط قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ریٹنگ ایجنسی جان بوجھ کر اسرائیل کی صورتحال کو خراب دکھا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ستمبر 2023 میں موڈیز کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی اور انہیں بتایا تھا کہ عدالتی اصلاحات کی باقی ماندہ باتوں کو صرف اس صورت میں نافذ کیا جائے گا جب ان کے پاس وسیع عوامی حمایت ہو گی۔