فرانسیسی خبر رساں ادارے نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اس کے صحافی عملے کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور ان کی جانیں بھوک کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔ ادارے نے علاقے میں جاری قحط جیسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

فرانسیسی صحافیوں کی تنظیم ایس ڈی جے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم نے مختلف جنگوں میں صحافیوں کو زخمی، قید یا شہید ہوتے دیکھا، مگر کبھی کسی کو بھوک سے مرتے نہیں دیکھا۔ادارے کے مطابق اسرائیل کی جانب سے خوراک کی بندش اور جاری حملوں نے غزہ میں موجود صحافیوں کی زندگی کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔ کئی صحافیوں کو کئی دن سے مناسب خوراک نہیں ملی، جبکہ اسپتالوں کی کمی اور طبی سہولیات کا فقدان حالات کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

ایک مقامی صحافی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ نہ چل سکتے ہیں اور نہ کوریج کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے بڑے بھائی بھوک کی شدت سے بے ہوش ہو کر گر پڑے۔خبر رساں ادارے نے بتایا کہ وہ اب تک 8 صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کو غزہ سے نکال چکے ہیں، جبکہ باقی فری لانسرز کو بھی واپس بلانے پر غور کر رہے ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال "ناقابلِ برداشت” ہو چکی ہے۔

ادارے نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں صحافیوں سمیت عام شہریوں کو درپیش انسانی بحران کا فوری نوٹس لے اور خوراک و طبی امداد کی رسائی یقینی بنائی جائے۔

ٹرمپ کا ایک بار پھر یونیسکو سے انخلا کا اعلان، اطلاق 2026 سے

کوئٹہ: کار سوار کی مظاہرین پر فائرنگ، 4 افراد زخمی، گاڑی نذرِ آتش

اپووا وفد کی جے یو آئی پنجاب کے ترجمان مولانا غضنفر عزیز سے ملاقات

Shares: