fbpx

گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی پاکستانی سیاست تحریر: سید لعل حسین بُخاری

پاکستانی سیاست گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کے لئے مشہور ہے۔حالانکہ یہ دنیا کے کچھ اور ممالک میں بھی ہوتا ہے۔مگر جس طرح کی بے اصولی اور مفادات ہماری سیاست میں نظر آتے ہیں۔وہ شائد ہی کہیں اور ہوں۔
ان بے اصولیوں کا تاریخی مظاہرہ کرنے والی ،دہائیوں سے ایک دوسرے کی حریف سمجھی جانے والی ن لیگ اور پیپلز پارٹی سر فہرست ہیں۔
وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ یہ اندر سے ایک ہیں،انہوں نے لوٹ مار کے لئے باریاں مقرر کر رکھی تھیں۔
مل بانٹ کے کھانا ان کی سیاست کا بنیادی اصول تھا۔
ایک دوسرے کو غدار کہا گیا،
ایک دوسرے کی خواتین کی عزتوں کو سر بازار رسوا کیا گیا۔
مگر جب اپنے مفادات کو بچانے کی نوبت آئ تو ایک دوسرے کے حق میں نعرے بلند کر دئیے گئے۔مزاروں پر جا کر سجدہ ریز ہو کر منافقت کو شرمندہ کیا گیا۔
جب ایک دوسرے سے مفادات ٹکراۓ تو پھر سے ایک دوسرے کے لتے لینے شروع کر دئیے گئے۔
ان سب لڑائیوں کے دوران اس وقت سب سے زیادہ دلچسپ معرکہ مسلم لیگ کے اندر -ن اور ش -میں چل رہا ہے
یہ کشمکش چچا اور بھتیجی کے مختلف نظریات کی نفسیاتی جنگ ہے-
شہباز شریف نواز شریف کے ریاست مخالف بیانیے سے ہینڈز اپ کر چکے ہیں،مگر ن لیگ پر ابھی تک نواز شریف کی مضبوط گرفت کی وجہ سے وہ وقتی طور پر نواز شریف اور مریم کی کھل کر مخالفت نہیں کر پا رہے،تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں ن لیگ کی عبرتناک شکست سے اتنا پی ٹی آئ والے خوش نہیں،جتنا شہباز شریف کیمپ ۔
پاکستانی سیاست میں ن لیگ کے گھر کی اس لڑائ میں فضل الرحمن کو کون بھول سکتا ہے۔
جو اپنے مفادات کی خاطر شائد بی جے پی سے بھی اتحاد کرنے کو تیار ہو جاۓ۔
آجکل انہیں کہیں سے بھی گھاس نہیں ڈالی جا رہی،جس کی وجہ سے وہ دم سادھے ہوۓ ہیں۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایکبار پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ضرور ہیں،مگر ان دو جماعتوں کی منافقت بھری تاریخ کو دیکھتے ہوۓ کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ یہ کب تک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں گے اور کب کسی میثاق کی آڑ میں باہم شیر وشکر ہوجائیں گے۔
ان لوگوں کی مطلب پرستیوں اور سیاسی قلابازیوں سے عام آدمی سیاست سے اس قدر متنفر ہو چکا ہے کہ اب تو صدارتی نظام کی بازگشت سُنائ دینا شروع ہو چکی ہے-
اس دو پارٹی سیاسی نظام کی تباہ کاریوں کے سامنے بند باندھنے کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔
اگر ہماری سیاست میں عمران خان کی انٹری نہ ہوتی تو پتہ نہیں کب تک عوام ان دو پارٹیوں کی لوٹ مار کا شکار رہتے۔
آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں ن لیگ کی شکست اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ لوگ اب ان کی مکاریوں کو سمجھنا شروع ہو چکے ہیں۔
لوگ ان کے جھوٹے بیانیوں کے جھانسے میں آنے کو تیار نہیں۔
پہلے ان کا ووٹ کو عزت دینے کا بیانیہ مسترد ہوا اب دھاندلی کا واویلہ بھی لوگوں کو متاثر نہیں کر پا رہا۔
عوام کو پتہ چل چکا ہے کہ ان کے ہر بیانیے کے پیچھے ریاست دشمنی چھپی ہوتی ہے۔
ان آخری دو بڑی شکستوں کے بعد پارٹی کے اندر سے مریم صفدر کے بیانیے کو مسترد کیا جانا خاص اہمیت کا حامل ہے
مریم نے آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کی شکست کو دھاندلی سے تعبیر کیا تو مصدق ملک،نوشین افتخار اور محمد زبیر نے مریم کے دعوے کی نفی کرتے ہوۓ کہا کہ دھاندلی نہیں ہوی بلکہ انہوں نے تو پی ٹی آئ کو سیالکوٹ کی جیت پر مبارکباد بھی دے ڈالی۔
اب آہستہ آہستہ
مریم کیمپ کے صحافی بھی مریم کے خود ساختہ بیانیوں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں
جس کی تازہ ترین مثال سلیم صافی کا نواز شریف کی حمد اللہ محب سے ملاقات کو غلط قرار دینا ہے
سلیم صافی نے کہا کہ حمداللہ نے کسی ایک شخص یا ایک ادارے کو گالی نہیں دی بلکہ ریاست پاکستان کو گالی دی،لہذا نواز شریف کو ایسے شخص سے نہیں ملنا چاہیے تھا۔
موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوۓ کہا جا سکتا ہے کہ ن لیگ کے ان بیانیوں کی تدفین سے پی ٹی آئ کا الیکشن 2023 جیتنا آسان ہو گیا ہے بشرطیکہ پی ٹی آئ عوام سے اپنا میثاق کرتے ہوۓ انکی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوۓ ان کو کچھ ضروری سہولیات دے سکے،جن میں سر فہرست مہنگائ کے خلاف جنگی بنیادوں پر برسر پیکار ہونا ہے #

@lalbukhari