ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد جلد بازی میں دواؤں کے نسخے لکھتی ہے، جس سے ان کے مریضوں کے لیے یہ سمجھنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں۔ یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے اور بہت سی ٹیک فرموں نے اسے بہت کم کامیابی کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

باغی ٹی وی : اب گوگل ان ناقابل فہم تحریروں کا ترجمہ کرنے میں مصروف ہے۔ سرچ کمپنی نے پیر کو بھارت میں اپنی سالانہ کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ ڈاکٹروں کی لکھائی کو سمجھنے کے طریقے تلاش کرنے کے لیے فارماسسٹ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

گوگل کی جانب سے ایونٹ کے دوران اس فیچر کی آزمائش بھی کی گئی جس سے اندازہ ہوا کہ وہ ڈاکٹروں کے تحریر کردہ نسخوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

گوگل کے ایک ایگزیکٹو نے بتایا کہ فیچر، فی الحال ایک ریسرچ پروٹو ٹائپ ہے اور ابھی تک عوام کے لیے تیار نہیں، صارفین کو نسخے کی تصویر لینے یا فوٹو لائبریری سے اپ لوڈ کرنا ہو گی ایک بار تصویر پر کارروائی ہونے کے بعد، ایپ نوٹ میں مذکور دوائیوں کا پتہ لگاتی ہے اور ان کو ہائی لائٹ کرتی ہے-

ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص کے اعزاز سے محروم ہوگئے

کمپنی نے ایک بیان میں کہا، "یہ ہاتھ سے لکھی ہوئی طبی دستاویزات کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے ایک معاون ٹیکنالوجی کے طور پر کام کرے گی جس میں انسانوں کو فارماسسٹ کی مدد سے شامل کیا جائے گا، تاہم اس ٹیکنالوجی کے ذریعے فراہم کردہ آؤٹ پٹ کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔”

لبتہ کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ اس فیچر کو کب تک صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا گوگل کے مطابق ابھی بھی اس حوالے سے کافی کام ہونا باقی ہے اور اس کے بعد یہ سسٹم حقیقی دنیا کے لیے تیار ہوگا۔

زمین پر پانی کی پیمائش کیلئےاہم مشن پر روانہ

خیال رہے کہ گوگل لینس اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس ایسا ٹول ہے جو اشیا (مصنوعات، پودوں یا جانوروں) کو شناخت اور زبانوں کے ترجمے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے گوگل لینس ایپ کو ابھی بھی آن لائن تحریروں کو کاپی پیسٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

Shares: