اسلام آباد میں گرینڈ اپوزیشن الائنس تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ہنگامی اجلاس مکمل ہو گیا، جس میں مختلف سیاسی رہنما اور اہم شخصیات شریک ہوئے۔ اجلاس میں محمود خان اچکزائی، عمر ایوب، اسد قیصر، رؤف حسن، اور دیگر رہنما شامل تھے۔اجلاس کے دوران 8 ستمبر کو ہونے والے متوقع جلسے کی حکمت عملی پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ شرکاء نے ایوان کی آئندہ کی کارروائی اور سیاسی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی۔ اجلاس میں اختر مینگل سے حالیہ ملاقات کے حوالے سے بھی اراکین کو آگاہ کیا گیا۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے دوران سپریم کورٹ کی تباہی کی کوششوں کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو ہم احتجاجی تحریک کا آغاز کریں گے۔
اجلاس کے بعد عمر ایوب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف آئے روز وارنٹ گرفتاری جاری ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وہ صبح اے ٹی سی سرگودھا میں پیشی کے لیے جائیں گے اور الائنس کی تمام تفصیلات مکمل ہو چکی ہیں۔ اسد قیصر نے بھی اجلاس کے دوران اختر مینگل سے ملاقات کا تذکرہ کیا، جس میں استعفیٰ واپس لینے کی درخواست کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اختر مینگل کو اپوزیشن گرینڈ الائنس میں مدعو کیا گیا تھا، مگر ان کی جگہ بی این پی کے ساجد ترین اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے۔اجلاس کے دوران ایک غیر متوقع واقعہ بھی پیش آیا، جب رؤف حسن اچانک اجلاس سے روانہ ہوگئے اور میڈیا سے کوئی بات چیت کیے بغیر وہاں سے چلے گئے۔ اس اقدام کی وجہ واضح نہیں ہے اور اس پر مزید تفصیلات کے منتظر ہیں۔

اسلام آباد: گرینڈ اپوزیشن الائنس تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ہنگامی اجلاس اختتام پذیر
Shares:







