وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026ء کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 12 سال سے کم عمر بچوں کو حج پر جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران سیکریٹری مذہبی امور عطاء الرحمٰن کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سردار یوسف نے بتایا کہ سرکاری حج اسکیم کے تحت درخواستیں 4 اگست سے وصول کی جائیں گی۔ پاکستان کا حج کوٹہ 1 لاکھ 79 ہزار 210 مقرر کیا گیا ہے، جس میں سے 1 لاکھ 19 ہزار کوٹہ سرکاری حج اسکیم اور 60 ہزار کوٹہ نجی ٹور آپریٹرز کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

وزیر مذہبی امور نے کہا کہ حج کے لیے لانگ اور شارٹ پیکیج پہلے کی طرح ہوں گے، جبکہ سرکاری حج اخراجات ساڑھے 11 لاکھ سے ساڑھے 12 لاکھ روپے کے درمیان ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ "نجی ٹور آپریٹرز ان افراد کو جو گزشتہ سال نہ جا سکے، انہیں پچھلے سال کی لاگت پر حج کرائیں گے۔حج سے متعلق انتظامات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عازمین کو مکمل تربیت دی جائے گی،ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں،مالیاتی نگرانی کا مؤثر نظام متعارف کرایا جائے گا، شکایات کے ازالے کے لیے شفاف نظام رائج ہوگاسرکاری و نجی حج اسکیم کی مانیٹرنگ تیسرے فریق کو دی گئی ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ عازمین کا ڈیٹا وزارت کی ویب سائٹ پر دستیاب ہو گا اور پرائیویٹ حج اسکیم کے لیے فنانشل معیار مقرر کیا گیا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیر مذہبی امور کے مطابق، روڈ ٹو مکہ سہولت اسلام آباد اور کراچی ایئرپورٹس پر میسر ہو گی، جبکہ حج کے لیے سعودی عرب سے منظور شدہ ویکسین لازمی قرار دی گئی ہے۔آخر میں انہوں نے شکوہ کیا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی سب کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں وزارت کو اعتماد میں نہیں لیا، جس کا باقاعدہ جواب دیا جائے گا۔

اسرائیلی فوج کی درندگی، امداد لینے آنے والا معصوم بچہ امریکی فوجی کے سامنے شہید

خاموش تبدیلی کا سفر،تحریر: اقصیٰ جبار

راجیہ سبھا میں جیا بچن برہم،آپریشن سندور پر حکومت پر برس پڑیں

Shares: