پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں کوئی خطرہ لاحق ہے تو اسے ہم سے شیئر کیوں نہیں کیا جاتا۔ایک بیان میں نیئر حسین بخاری نے کہا کہ اگر حکومت کو خطرہ محسوس ہو رہا ہے تو وزیر اعظم کو ایڈوائس کرنی چاہئے کہ اسمبلی تحلیل کر کے نئے انتخابات کرائے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹ میں حکومت کو مضبوط کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ حکومت اپنی کارکردگی میں بہتری لائے۔نیئر حسین بخاری نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری بارہا کہہ چکے ہیں کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھا جائے، اور وہ اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، مگر کوئی بات چیت کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا۔ بانی پی ٹی آئی کی قابل اعتباریت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنی بات سے پھر جاتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک دن اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کی بات کرتے ہیں اور اگلے دن کچھ اور بیان دے دیتے ہیں۔ اسی طرح، محمود اچکزئی کو بات کرنے کا اختیار دینے کے بعد انکار کر دیتے ہیں۔ نیئر حسین بخاری نے واضح کیا کہ بات چیت اسی سے کی جاتی ہے جس پر اعتماد ہو۔نیئر حسین بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئینی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور تمام مسائل کا حل آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سسٹم ڈی ریل ہو گیا تو نقصان ملک کا ہوگا۔
نواز شریف کی وطن واپسی کا کریڈٹ محترمہ بے نظیر بھٹو کو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پرویز مشرف کی یونیفارم نہ اترتی تو نواز شریف کبھی واپس نہ آتے۔نیئر حسین بخاری نے عام انتخابات کے حوالے سے بتایا کہ پارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ بلاول بھٹو وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل پر یقین رکھتی ہے اور 8 فروری کے انتخابات کے نتائج کو تحفظات کے باوجود قبول کیا۔پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پارٹی کو منصوبے کے تحت کچھ نشستیں نہیں دی گئیں اور اگر ن لیگ کا ساتھ نہ دیتے تو پارلیمان اور چیف ایگزیکٹو کا آفس نہیں چل سکتا۔








