حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے،متحدہ علماء محاذ

وفاقی و صوبائی حکومتیں عملی اقدامات میں مکمل طور پرناکام ہوچکی ہیں،متحدہ علماء محاذ
مساجدکوحفاظتی تدابیر کے ساتھ پنج وقتہ اور نماز تراویح کے لیے کھولاجائے،علماء مشائخ کا مطالبہ
زخیرہ اندوزوں،گرانفروشوں کو فوری گرفتار اور اشیائے خوردونوش میں 40فیصدکمی کا اعلان کیا جائے
حکومت غریب عوام کی دہلیزپرراشن سمیت تمام بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے،استقبال رمضان کی تقریب میں قرارداد

کراچی: متحدہ علماء محاذپاکستان کے تحت مرکزی سیکریٹریٹ گلشن اقبال میں استقبال و تقدس رمضان اور کورونا وائرس سے پیدا شدہ موجودہ تشویشناک صورت حال پر اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ نے وفاقی و صوبائی حکومت کے ناقص اقدامات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں عملی اقدامات میں مکمل طور پرناکام ہوچکی ہیں ایک دوسرے پر الزامات اورباہمی توتکار سے ریاست کی جگ ہنسائی ہورہی ہے مساجدکوحفاظتی تدابیر کے ساتھ پنج وقتہ اور نماز تراویح کے لیے کھولاجائے

مختلف شہروں میں روکے گئے تبلیغی جماعت کے افرادکو گھروں کو روانہ کیاجائے۔زخیرہ اندوزوں،گرانفروشوں کو فوری گرفتار اور اشیائے خوردونوش میں 40 فیصدکمی کا اعلان کیا جائے متحدہ علماء محاذ کے چیئرمین علامہ عبدالخالق فریدی،بانی سیکریٹری جنرل مولانامحمدامین انصاری،علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی،مولانا انتظارالحق تھانوی، علامہ یونس صدیقی سلفی،یعقوب احمد شیخ،علامہ علی کرار نقوی،علامہ مرتضی خان رحمانی،حافظ گل نواز و دیگر نے کہا کہ: قدرتی آفت کورونا کی آمد سے لیکر آج تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں عملی اقدامات کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں وفاق و صوبوں کے ایک دوسروں پر الزامات اور باہمی توتکارسے عالمی سطح پر ریاست پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے،

سرکاری سطح پر باقاعدہ علاج معالجے اور عوامی ضروریات کیلئے تاحال موثراقدامات نہیں کیے گئے،کچھ عناصر کورونا وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر فرقہ ورانہ پوسٹیں شیئر کرکے ملک کو فرقہ وارانہ تعصب اور منافرت کی طرف دھکیلنے کی سازش کررہے ہیں، حکمرانوں کی خاموشی قابل مذمت ہے

انہوں نے مطالبہ کیاکہ ملک کے مختلف شہروں میں تبلیغی جماعت کے جن افرادکو روکاگیا ہے انہیں فی الفور باحفاظت گھروں کو روانہ کیاجائے،ان کے ساتھ ظلم جبر تشدد کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے،صوبائی اور مرکزی حکومتیں مل بیٹ ھ کر مسائل کو حل کریں ملک بھر کے تاجروں کو محدود وقت کیلئے معاشی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے‘ آئمہ مساجد و خطباء کے خلاف قائم مقدمات ختم کئے جائیں‘

انتظامی افسران کو سنسی خیزی پھیلانے کی بجائے حکمت عملی سے مسائل حل کرنے کا پابندکیاجائے حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے اور عوام الناس کو بتایاجائے ایسے حالات میں اللہ سے رجوع ضروری ہے اور اللہ کے حکم سے ہی اس موذی بیماری سے چھٹکارا ملے گا۔ کورونامساجد آباد کرنے سے ختم ہوگا مساجد پر پابندیاں عذاب خدا وندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حکومت غریب عوام کی دہلیزپرراشن سمیت تمام بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے،راشن و امداد کے نام پر تصاویر و ویڈیوبناکر سفید پوش ضرورت مند مرد و خواتین کی تحقیر و تذلیل کے غیر شرعی عمل سے اجتناب کیا جائے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.