fbpx

آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بلوچستان میں مقیم کشمیریوں نے خاصی دلچسپی ظاہر کی: تحریر: حمیداللہ شاہین

ملک بھر میں خصوصا کشمیر میں آزاد و جموں کشمیر انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہونے کے بعد بالآخر 25 جولائی کو انتخابات ہوئے اور اس انتخابات میں کشمیریوں نے اپنے رائے دہی استعمال کرکے نمائندے چن لئے۔
25 جولائی 2021 کو کشمیر انتخابات کے پیش نظر بلوچستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں نے بھی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں خاصی دلچسپی ظاہر کی۔
الیکشن کمیشن نے کوئٹہ ، مستونگ ، سبی ، نصیر آباد ، بارکھان ، قلعہ سیف اللہ اور کیچ اضلاع میں پولنگ اسٹیشن قائم کیے تھے ، لیکن کشمیری ووٹرز نے صرف کوئٹہ اور سبی میں ہی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
متعلقہ عہدیداروں کے مطابق نصیر آباد ، کیچ ، مستونگ ، بارکھان اور قلعہ سیف اللہ میں پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بھی ووٹر نہیں ملا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اضلاع میں انتخابی عملہ رائے دہندگی کے اختتام تک پولنگ اسٹیشنوں پر موجود رہا۔
کشمیری پناہ گزینوں جن کی ایک بڑی تعداد کوئٹہ میں رہتی ہے نے پاک گرلز ہائی اسکول اور گورنمنٹ سینڈیمین ہائی اسکول میں قائم تین پولنگ اسٹیشنوں میں اپنا ووٹ ڈالا۔
پولنگ کے لئے مقرر سات اضلاع میں سے صرف دو ہی ووٹ ڈال رہے ہیں
ایل اے 34 جموں کے لئے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 535 تھی ، لیکن ان میں سے 202 نے اپنے ووٹ ڈالے۔
ریٹرننگ افسر کے اعلان کردہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق ، پاک سرزمین پارٹی کے شاہ عبد اللطیف نے 158 ووٹ حاصل کیے ، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناصرحسین ڈار نے 12 اور پاکستان پیپلز پارٹی کے زاہد اقبال نے 11 ووٹ حاصل کیے جبکہ باقی ووٹ دوسری جماعتوں کے امیدواروں کو گئے۔ ایل اے 40 وادی کشمیر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 1059 تھی ، لیکن صرف 418 نے اپنا ووٹ کاسٹ ہوئے، جبکہ نو ووٹ مسترد کردیئے گئے۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سلیم بٹ نے 199 ووٹ حاصل کیے ، جبکہ پیپلز پارٹی کے عامر غفار لون نے 125 اور مسلم لیگ (ن) کے طاہر وانی نے 81 ووٹ حاصل کیے جبکہ باقی ووٹ دوسرے امیدواروں کو گئے۔
خواتین کی بڑی تعداد اپنے ووٹ کاسٹ نہیں کر سکی کیونکہ وہ ووٹر لسٹ میں اپنے نام تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
تحریک انصاف ، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے صوبائی رہنما کوئٹہ میں پولنگ اسٹیشنوں کے باہر موجود رہے۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں کے ہمراہ ایک پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا۔
سبی میں صرف چار ووٹ ڈالے گئے۔ ان میں سے ایک ووٹ پیپلز پارٹی کے عامر غفار لون اور دو زاہد اقبال کو ملے ، جبکہ ایک ووٹ مسترد کردیا گیا۔ سبی میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کوئی ووٹ حاصل نہ کرسکے۔
صوبائی انتظامیہ نے پولنگ اسٹیشنوں اور اس کے آس پاس کے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے۔
بلوچستان میں کافی عرصے سے کشمیری شہری رہ رہے ہیں، انکے یہاں پہ اپنے کاروبار اور سرکاری نوکریاں ہیں، بلوچستان میں بیکری کے کاروبار میں کشمیری شہری خاصی شہرت رکھتے ہیں، خاص طور پر پشین، قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ شہر میں کشمیری بھائیوں کے بیکری کا کاروبار مشہور ہے اور انکی مہارت سے پورے بلوچستان کے عوام کے دل کے خاصے قریب ہیں۔

ٹویٹر: @iHUSB