فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے رہنما سمیع ابو زہری نے مصر کی جانب سے غزہ کے مستقبل کے لیے پیش کیے گئے نئے منصوبے پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سمیع ابو زہری نے مصر کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے مستقبل کا فیصلہ صرف فلسطینی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حماس غزہ پر مسلط کیے گئے کسی بھی منصوبے، کسی غیر ملکی انتظامیہ یا کسی غیر ملکی افواج کو غزہ کی سر زمین پر تسلیم نہیں کرے گی۔

خیال رہے کہ مصر نے حماس کو حکومت سے الگ کر کے غزہ میں ایک عبوری انتظامیہ کے قیام کی تجویز دی ہے جو وہاں پر عرب، مسلم اور مغربی ممالک کی حمایت سے کام کرے گی۔واضح رہے کہ مصر کی جانب سے پیش کیے گئے اس منصوبے کی ابھی تک کسی عرب ملک کی جانب سے حمایت یا مخالفت سامنے نہیں آئی ہے۔منصوبے کے تحت ابتدا میں ملبہ ہٹانے اور عارضی رہائش گاہوں کا بندوبست کرنے میں 6 ماہ لگیں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے کی کا خرچ 20 ارب ڈالر ہوگا، غزہ کی تعمیر نو کے دوسرے مرحلے میں ڈھائی سال میں 2 لاکھ رہائشی یونٹس اور غزہ ایئر پورٹ کی تعمیر ہوگی۔رپورٹ کے مطابق دوسرے مرحلے میں 30 ارب ڈالر خرچ ہوں گے، مصری منصوبے کے تحت غزہ کی مکمل تعمیر نو 5 سال میں مکمل ہو جائے گی۔

برطانوی ہائی کمشنر کی علی امین گنڈاپور سے ملاقات

شریف اور پرویز الہی فیملی کےسابق وکیل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعینات

گورنر سندھ اور بیٹے کو قتل کی دھمکیاں ملنے کا انکشاف

برطانوی ہائی کمشنر کی علی امین گنڈاپور سے ملاقات

پرویز الہیٰ پر پنجاب میں 32 مقدمات درج، پولیس رپورٹ

Shares: