تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے حماس کے رہا کیے گئے 6 یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی طے شدہ رہائی کو مؤخر کرنے پر حماس نے سخت ردعمل دیا ہے-
باغی ٹی وی : اسرائیلی وزیراعظم آفس نے اپنے بیان میں کہا کہ حماس کی مسلسل خلاف ورزیوں اور قیدیوں کی رہائی کو پروپیگنڈا کے لیے استعمال کرنے کے باعث فلسطینی قیدیوں کی رہائی روک دی گئی ہے،تاہم حماس نے اس فیصلے کو جنگ بندی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا ہے حماس نے کہا کہ غزہ میں قیدیوں کی رہائی کا منظر دو اسرائیلی یرغمالیوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا، جس کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے، ان دونوں یرغمالیوں نے اپنی حکومت سے فوری رہائی کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حماس کی جانب سے 6 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بعد 600 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی طے شدہ رہائی کو موخر کر دیا ہے۔
چیمپئنز ٹرافی: صدر مرکزی مسلم لیگ کا قومی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار
اسرائیلی وزیراعظم آفس کے مطابق حماس نے قیدیوں کی رہائی کے دوران سیاسی پروپیگنڈے کا سہارا لیا، جس کے باعث اسرائیلی حکومت نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے نیتن یاہو نے واضح کیا کہ جب تک یرغمالیوں کی رہائی کسی تقریب کے بغیر نہیں ہوتی، فلسطینی قیدیوں کو آزاد نہیں کیا جائے گا۔
ادھر مغربی کنارے میں سینکڑوں فلسطینی خاندان اپنے پیاروں کی رہائی کے انتظار میں شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ کئی فلسطینی سالوں سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں اور جنگ بندی معاہدے کے تحت ان کی رہائی کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔