fbpx

ہمیں کیس کو سمجھنے تو دیں کہ کیس کیا ہے ،شہباز شریف ضمانت کیس میں عدالت کا وکیل سے مکالمہ

ہمیں کیس کو سمجھنے تو دیں کہ کیس کیا ہے ،شہباز شریف ضمانت کیس میں عدالت کا وکیل سے مکالمہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

نیب کی طرف سے ا سپیشل پراسیکیوٹر سید فیصل رضا بخاری لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے درخواست گزار کی طرف سے اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے،جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آپ کیلئے ایک سبق ہے کہ مصدقہ نقل لینے کے بعد یقین کریں،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ضمانت کا حکم سننے کے بعد کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حکم تبدیل ہو جائے،عدالت نے کہا کہ جب تک تحریری حکم نہ حاصل کر لیں تب تک کلائنٹ کو نہ بتائیں کہ ضمانت منظور ہوئی ہے،جسٹس باقر علی نجفی نے کہا کہ ہمیں بطور ریفری جج کے طور پر کیس کی سماعت کیلئے نامزد کیا گیا ہے، آپ کیس سے متعلق شروع سے بتائیں ،ہمیں کیس کے حقائق کا علم نہیں، وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میری 27 سالہ وکالت میں پہلی بار فیصلہ بدلا گیا ،عدالت نے کہا کہ ہمیں چیف جسٹس نے نامزد کیا کہ اس کیس کو سنا جائے ،وکیل نے کہا کہ کیس کی ری ہیرنگ نہ کی جائے، دونوں ججز کے فیصلے کو دیکھا جائے ،جسٹس باقر علی نجفی نے کہا کہ ہمیں کیس کو سمجھنے تو دیں کہ کیس کیا ہے ،

وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ 2رکنی بینچ اختلاف پرمعاملہ ریفری جج کو بھجواتے ہیں اور پوائنٹس بناتے ہیں ، اس کیس میں ایسا نہیں ،ججزنے فیصلے پر اختلاف کے نکات بنا کر نہیں بھیجے اگر اختلاف کرنے والے ججز نکات نہ بھیجیں تو ریفری جج واپس کیس بینچ کو بھجوا دیتا ہے ریفری جج نکات بنائے جانے کے بعد ہی سماعت کرتا ہے ،

وکیل شہباز شریف نے کہا کہ شہباز شریف پر 27 کروڑ کے اثاثے بنانے کا الزام ہے ،تمام اثاثے ڈیکلٸیر ہیں مگر یہ نیب نہیں مانتا ،نیب ہماری زرعی آمدنی بھی تسلیم نہیں کرتی ، نیب کہتا ہے کہ چار مربع زمین کی سال میں صرف ایک لاکھ آمدن ہوٸی ،

شہباز شریف کی درخواست ضمانت کی سماعت تین رکنی فل بنچ کر رہا ہے، بینچ کی سربراہی جسٹس علی باقر نجفی کر رہے ہیں۔ جبکہ دیگر ججوں میں جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس شہباز رضوی شامل ہیں۔ جسٹس اسجد جاوید گھرال کے اختلافی نوٹ کی بنا پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے فل بنچ تشکیل دیا تھا۔

شہباز شریف نے لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ کا ریفرنس دائر ہو چکا ہے اور ٹرائل جاری ہے ،کوئی ٹرانزیکشن شہباز شریف کے نام پر نہیں ہے۔ شہباز شریف کی جانب سے کہا گیا کہ کئی ماہ سے جیل میں قید ہوں، تمام ریکارڈ نیب کے پاس ہے،نیب نے ریکوری نہیں کرنی، عدالت ضمانت پر رہائی کا حکم دے ۔

شہباز شریف بیٹی کے ہمراہ عدالت میں پیش، حمزہ شہباز جیل میں ہوئے بیمار

جج صاحب،میں آج عدالت میں یہ چیز لے کر آیا ہوں،عدالت نے شہباز شریف کو دیا کھرا جواب

شہباز شریف عدالت پہنچ گئے،نیب کی شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا

شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری، سی سی پی او لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے، اہم حکم دے دیا

شہبازشریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس،تحریری حکم نامہ جاری

شہباز شریف کو بکتر بند گاڑی میں عدالت پیش کرنے پر تحریری حکم جاری

شہباز شریف خاندان کے کتنے افراد اشتہاری قرار دے دیئے گئے؟

شہباز شریف کا عدالت پیشی کے موقع پر کس شخصیت سے ہوا ٹیلی فونک رابطہ؟

شہباز شریف کی جیل میں طبیعت ناساز، 8 رکنی میڈیکل بورڈ جیل پہنچ گیا

سینیٹ انتخابات، شہباز شریف سے کون کونسی اہم شخصیات ملنے پہنچ گئیں؟

شہباز شریف کے کتنے ارب اثاثوں کی تفصیلات نہیں مل رہیں؟ نیب کا عدالت میں انکشاف

واضح رہے کہ شہباز شریف کو نیب نے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر گرفتار کیا تھا، عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا تھا ، شہباز شریف کو عدالت میں بکتر بند گاڑی میں پیش کیا جاتا ہے جس پر ن لیگ نے احتجاج کیا تھا،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.