خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو 4 نومبر سے آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے اور بین الاقوامی میڈیامیں ان سے متعلق تشویش ناک خبریں آرہی ہیں۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے احتجاج کریں گے پھراڈیالہ جیل بھی جائیں گے،4 نومبر سے بانی پی ٹی آئی کو آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے، بین الاقوامی میڈیا سے بانی پی ٹی آئی سے متعلق تشویش ناک خبریں آرہی ہیں، ہم اڈیالہ گئے وہاں دو منٹ کیلئے نہیں ملنے دیا گیا، ہائیکورٹ بھی گئے پھر بھی ملاقات نہ ہوسکی، پارلیمانی پارٹی اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ این ایف سی ایوارڈ میں شرکت کریں گے، وہاں پر ضم اضلاع اور صوبے کی حقوق کیلئے لڑیں گے، 2018 سے اب تک صوبے کو این ایف سی میں اپنا حصہ نہیں مل رہا، ضم اضلاع کو اپنے حق سے محروم کیا جارہا ہے، ایک ہزار 350 ارب روپے 7 سال کے وفاق پر این ایف سی ایوارڈ میں واجب الادا ہے، صوبے بھر کے جامعات میں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سیمینار کررہے ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی صوبے کے حقوق کیلئے مٹینگ کرنی ہے،سب کو مل کر صوبے کیلئے لڑنا ہوگا، سیاسی جدوجہد الگ، این ایف سی ایوارڈ سمیت صوبے کے حقوق کیلئے مشترکہ لڑنا ہوگا،ہمیں تصادم کی طرف لے جانے کی کوشش ہورہی ہے لیکن ہم نہیں جائیں گے، میں بحیثیت وزیر اعلیٰ اور پارٹی کارکن بھی کام کر رہا ہوں، صوبے کے وزیر اعلیٰ کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا، اس صوبے کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، یہ غلط بات ہےکہ یہاں گڈ گورننس نہیں، یہاں کام ہو رہا ہے اس لیے ہمیں ووٹ ملتا ہے، تیراہ میں میری خاندانی زمین ہے، ذاتی کوئی زمین نہیں، میرے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔








