شان پاکستان
ازقلم: حمزہ ارشدسادہوکی تحصیل کامونکی ضلع گوجرانوالہ
پاکستان ایک ایسا نام ہے جو آزادی، قربانی، خودداری، اور ایمان کی خوشبو سے مہکتا ہے۔ یہ محض ایک ملک نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے، جو ایک ایسی قوم کی تعبیر کا ہے، جس نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر اپنے عقیدے، ثقافت اور شناخت کی بنیاد پر ایک الگ وطن حاصل کیا۔ "شان پاکستان” صرف اس کے جھنڈے، فوج یا ایٹمی طاقت میں نہیں، بلکہ اس کی عوام، تاریخ، روایات، جدوجہد اور مستقبل کے خوابوں میں پوشیدہ ہے۔

پاکستان 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا، لیکن اس کی بنیاد کئی دہائیوں کی سیاسی جدوجہد، فکری بیداری اور ناقابلِ بیان قربانیوں پر رکھی گئی تھی۔ برصغیر کے مسلمان دو قومی نظریے کے تحت ایک ایسی ریاست چاہتے تھے جہاں وہ آزادی سے دین اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ لاکھوں مسلمانوں نے ہجرت کی، ہزاروں شہید ہوئے، مائیں لٹیں، بچے بچھڑے اور انہی سب نے مل کر ایک وطن کی بنیاد رکھی۔ پاکستان کا اصل چہرہ اس کا نظریہ ہے، جس کی بنیاد "لا الہ الا اللہ” پر ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ "پاکستان اسی روز وجود میں آ گیا تھا، جب برصغیر کا پہلا شخص مسلمان ہوا تھا۔” یہ نظریہ ہمیں مذہبی آزادی، عدل، مساوات، اور رواداری کا سبق دیتا ہے۔ یہی نظریہ "شان پاکستان” کی اصل روح ہے، جو ہمیں دنیا کے باقی ممالک سے ممتاز کرتا ہے۔

پاکستان کی ثقافت اس کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔ پنجاب کی دھمال، سندھ کی اجرکیں، بلوچستان کی روایتی چادریں، خیبر پختونخوا کا پگڑی دار وقار، گلگت بلتستان کی وادیاں، یہ سب مل کر ایک ایسا حسین گلدستہ بناتے ہیں جو دنیا میں منفرد اہمیت کا حامل ہے۔ ہماری زبانیں (اردو، پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، سرائیکی)، روایات، لباس، خوراک، موسیقی اور مہمان نوازی سب "شانِ پاکستان” کا حصہ ہیں۔ سبز ہلالی پرچم صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں، یہ ہماری شناخت، عقیدہ اور اتحاد کی علامت ہے۔ اس میں سبز رنگ مسلمانوں اور سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ چاند اور ستارہ ترقی اور روشنی کی علامت ہیں۔ جب یہ پرچم فضا میں لہراتا ہے تو ہر پاکستانی کا دل فخر سے بھر جاتا ہے۔

پاکستان کا دفاعی نظام دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ ہماری فوج، ایئر فورس، نیوی اور انٹیلیجنس ایجنسیاں ملک کے تحفظ کے لیے چوبیس گھنٹے تیار رہتی ہیں۔ پاکستان وہ واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت رکھتا ہے، اور یہی اس کی ایک بڑی "شان” ہے۔ کارگل، سوات، اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہماری افواج نے بے مثال قربانیاں دے کر دنیا کو دکھا دیا کہ ہم ایک غیرت مند قوم ہیں۔

28 مئی 1998 کو پاکستان نے کامیابی سے ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو بتا دیا کہ ہم صرف امن چاہتے ہیں، کمزوری نہیں۔ یومِ تکبیر ہماری خودمختاری، جرات اور ٹیکنالوجی میں مہارت کی یادگار ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے سائنسدان "شان پاکستان” ہیں جنہوں نے قوم کو ناقابل تسخیر بنایا۔

اگرچہ تعلیمی میدان میں ہمیں ابھی بہت آگے جانا ہے، مگر کچھ کامیابیاں قابلِ فخر ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام، پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان، عالمی سطح پر ہمارے علمی مقام کی علامت ہیں۔ کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور کبڈی جیسے کھیلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں نے دنیا میں نام پیدا کیا۔ عمران خان، جہانگیر خان، جان شیر خان، اور بابر اعظم جیسے سپورٹس ہیروز نہ صرف کھیل کے میدانوں میں جیتے بلکہ عالمی سطح پر "شان پاکستان” بنے۔

پاکستانی شعراء، ادیب، گلوکار اور فنکار بھی "شانِ پاکستان” ہیں۔ علامہ اقبال، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، پروین شاکر، اور منیر نیازی جیسے شعراء نے اردو ادب کو جِلا بخشی۔ نصرت فتح علی خان اور عابدہ پروین جیسے فنکاروں نے صوفی موسیقی کو عالمی سطح پر پہچان دی ہے۔

کچھ وقت قبل بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جارحیت کا مظاہرہ کیا، جس کے تحت اس نے "آپریشن سندور” کے نام سے مختلف پاکستانی علاقوں پر حملے کیے۔ بھارتی عزائم کا مقصد پاکستان کو دفاعی طور پر کمزور دکھانا تھا، مگر افواجِ پاکستان نے بروقت اور مؤثر ردِعمل کے تحت "آپریشن بنیان مرصوص” کا آغاز کیا۔ آپریشن بنیان مرصوص کے تحت جوابی کارروائی میں نہ صرف دشمن کے حملوں کو ناکام بنایا گیا بلکہ پانچ بھارتی طیارے مار گرائے گئے اور کئی جاسوس ڈرون بھی تباہ کیے گئے۔ دشمن کے متعدد لانچ پیڈز اور مواصلاتی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے بھارت کو واضح پیغام ملا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتا۔

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو (K2) بھی پاکستان میں واقع ہے، جو پاکستان کی شان میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ زلزلہ ہو یا سیلاب، غربت ہو یا مہنگائی، پاکستانی قوم ہر مشکل وقت میں ایک جسم بن جاتی ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ کیسے پاکستانی عوام نے لاکھوں افغان مہاجرین کو سینے سے لگایا، کیسے کورونا وبا میں جذبۂ خیرات اور خدمت نے دنیا کو حیران کر دیا۔ ہندو، عیسائی، سکھ، پارسی، پاکستان میں رہنے والی اقلیتیں بھی اس ملک کی ترقی میں برابر کی شریک ہیں۔ ان کا احترام، مساوی حقوق، اور قومی سطح پر کردار بھی "شان پاکستان” کا مظہر ہے۔

"شان پاکستان” صرف ماضی کی بات نہیں، بلکہ مستقبل کی امید بھی ہے۔ آج کا پاکستان جدید ٹیکنالوجی، آئی ٹی، کلین انرجی، تعلیم اور خود کفالت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سی پیک جیسے منصوبے عالمی معاشی میدان میں پاکستان کی اہمیت بڑھا رہے ہیں۔

پاکستان ایک قدرتی معجزہ ہے۔ ایک نظریہ، ایک تحریک، ایک قوم، اور ایک وعدہ — جو رب سے کیا گیا تھا۔ "شان پاکستان” صرف ایٹمی طاقت یا پرچم نہیں، بلکہ اس کے عوام کی غیرت، عقیدہ، محنت، قربانی اور امید کا نام ہے۔ اگر ہم خود کو پہچان لیں، اور قومی وحدت کو مضبوط کریں، تو کوئی طاقت ہمیں دنیا میں ممتاز ہونے سے نہیں روک سکتی۔

پاکستان زندہ باد!

Shares: