بھارتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے کہا ہے کہ ملک کی آبادی قابو میں مگر کافی ہونی چاہیے،تمام بھارتی خاندانوں کو تین بچوں کی پیدائش کی ضرورت ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق جمعرات کو آر ایس ایس کی 100 سالہ سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےآر ایس ایس کے سربراہ نے بھارت میں موجودہ پیدائش کی شرح میں کمی کے طویل المدتی خطرات سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی آبادی قابو میں مگر کافی ہونی چاہیے قومی مفاد میں ہر خاندان کے تین بچے ہونے چاہئیں اور انہیں وہیں تک محدود رہنا چاہیے،ہمختلف مذہبی گروپوں میں پیدائش کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔

گزشتہ برس دسمبر میں بھی ناگپور میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران موہن بھگوت نے خاندان میں 3 بچوں کی پیدائش کے معاملے پر زور دیا تھا جس پر اپوزیشن جماعتوں نے ناراضگی ظاہر کی تھی،آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ بھارت میں آبادی کے بڑھنے کی رفتار کم ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں ترقی کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ سے رکن برطانوی ہاؤس آف لارڈزکی ملاقات

بھارت کی موجودہ آبادی 1.46 ارب ہے، جو دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، تاہم اقوام متحدہ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں کی مجموعی پیدائش کی شرح خواتین کے لیے دو بچوں سے بھی کم ہو گئی ہے، جبکہ اقتصادی ترقی بھی تیز ہو رہی ہےآر ایس ایس کئی سالوں سے اقلیتی گروپوں جیسے مسلمانوں کے ہاں زیادہ بچوں کی پیدائش کو بڑی تشویش سمجھتی آئی ہے آر ایس ایس ایک ہندو انتہا پسند تنظیم ہے جس کا قیام 1925 میں ایک رضاکارانہ تنظیم کے طور پر عمل میں آیا اور اس تنظیم کا مقصد ہندوتوا کو فروغ دینا ہے جو بھارت کو صرف ہندوؤں کی سرزمین مانتی ہے۔

روس کا یوکرین پر بڑا فضائی حملہ،بچوں،سمیت 18 افراد جاں بحق

Shares: