اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگار حبیب خان )بہاولپور کا تاریخی ورثہ تباہ،بابائے بہاولپور نواب سر صادق عباسی کے مجسمے سے سر غائبَ،ذرائع کے مطابق مجسمے سے غائب کیا گیا سر برآمد کر لیا گیا ہے لیکن یہ حرکت کس نے کی اور کیا ملزمان گرفتار ہوئے؟ عوامی اور سماجی حلقے ان سوالات کے جوابات کے منتظر ہیں۔
بہاولپور کے گلزارِ صادق پارک میں نصب بابائے بہاولپور نواب سر صادق محمد خان عباسی کے مجسمے سے سر غائب ہونے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ یہ واقعہ شہر کے تاریخی ورثے کی بے حرمتی اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
ذرائع کے مطابق مجسمے سے غائب کیا گیا سر برآمد کر لیا گیا ہے لیکن یہ حرکت کس نے کی اور کیا ملزمان گرفتار ہوئے؟ عوامی اور سماجی حلقے ان سوالات کے جوابات کے منتظر ہیں۔
یہ مجسمہ کنٹونمنٹ بورڈ نے 26 مئی 2022 کو ریاست بہاولپور کے بانی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے نصب کیا تھا۔ نواب سر صادق عباسی کی 56 ویں برسی کے موقع پر اس مجسمے کا افتتاح امیر بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی کے ہاتھوں ہونا تھا، لیکن ان کی عدم موجودگی میں پرنس بہاول عباس خان عباسی اور صاحبزادہ محمد عمر عباسی نے تختی کی نقاب کشائی کی تھی۔
مجسمے کی بے حرمتی عوام کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔ شہریوں نے اس واقعے کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ مجسمے کی حفاظت کی ذمہ داری کنٹونمنٹ بورڈ یا کسی اور محکمے کو دی گئی تھی؟
عباسی خاندان اور عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملزمان کو جلد گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کیا جائے گا۔
یہ واقعہ نہ صرف ایک تاریخی شخصیت کی توہین ہے بلکہ انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی گہرے سوالات چھوڑ گیا ہے۔ بہاولپور کے عوام نے اس مسئلے کو اپنے تاریخی ورثے اور ثقافتی شناخت کی حفاظت کے لیے ایک اہم آزمائش قرار دیا ہے۔