fbpx

ہمارے پروڈکشنز ہاؤسز کا ماحول بالکل فیکٹری والا ہے یاسر حسین

پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار یاسر حسین کا کہنا ہے کہ ہمارے پروڈکشنز ہاؤسز کا ماحول بالکل فیکٹری والا ہے۔

باغی ٹی وی : یاسر حسین نے حال ہی میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے خود سے منسوب تنازعات اور پاکستانی شوبز انڈسٹری کے بارے میں اظہار خیال کیا۔

یاسر حسین کا شمار پاکستان شوبز انڈسٹری کے ان اداکاروں میں ہوتا ہے جو اپنے کام سے زیادہ مختلف تنازعات کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اقراعزیز کو شادی کے لیے پرپوز کرنے سے لے کر ترک ڈرامے ارطغرل غازی کے بارے میں بیان دینے تک یاسر حسین سوشل میڈیا پراکثر تنقید کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

یاسر حسین نے خود پر ہونے والی تنقید کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ایسا نہیں ہے کہ ساری دنیا مجھ سے نفرت کرتی ہے کچھ لوگ مجھے پسند بھی کرتے ہوں گے۔ یا اگر میں کسی کو پسند نہیں تو آپ کے پاس ایک بٹن ہے ان فالو کرنے کا مجھے سوشل میڈیا پر ان فالو کردیں میرے بارے میں جاننے کے لیے فکر مند نہ ہوں کہ میں کیا کرتا ہوں کیا کہتا ہوں۔

یاسر حسین نے کہا کہ میں کیوں اپنی رائے کا اظہار نہیں کر سکتا، صرف اس لیے کیونکہ میں ایک اداکار ہوں؟ مجھے صرف ایک بناوٹی خول میں رہنا چاہیے سب کو ایسا لگنا چاہیے کہ اداکار تو ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے ٹی وی پر دکھتے ہیں؟‘

انہوں نے کہا کہ اب راجیش کھنا اور محمد علی کا دور چلا گیا ہے جہاں امیتابھ بچن آج تک اسی ہیئرسٹائل کی وگ لگا رہے ہیں کیوںکہ شاید انھیں لگتا ہے کہ اگر ہیئر سٹائل تبدیل ہوا تو میں امیتابھ بچن نہیں لگوں گا۔‘

یا سر حسین نے پاکستانی ڈراموں اور اداکاروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہمارے یہاں اداکاروں کو بھی کام کرنے میں مزہ نہیں آتا انہیں بس عادت ہے ڈرامے کرنے کی۔

یاسر نے کہا کہ ہمارے یہاں کی پروڈکشنز بہت بری ہوتی ہیں، بغیر اے سی کے کام ہوتا ہے پسینہ صاف کرتے کرتے اداکار پاگل ہوجاتے ہیں صبح سے لے کر رات تک صرف کام کرتے ہیں ہمارے پروڈکشنز ہاؤسز کا ماحول بالکل فیکٹری والا ہے۔

میزبان نے سوال پوچھا کہ جو باتیں آپ سوشل میڈیا پر کررہے ہوتے ہیں وہی باتیں دوسرے اداکار بھی کررہے ہوتے ہیں لیکن وہ سوشل میڈیا پر نہیں کرتے اس لیے ان کی باتیں لوگوں کے سامنے نہیں آتیں؟ اس سوال کے جواب میں یاسر حسین نے کہا ہماری انڈسٹری بہت منافق ہے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے اور یہ آج سے نہیں بلکہ شروع سے ہے۔

یاسر حسین نے کہا جب بھی میں کسی تنازع کا شکار ہوتا ہوں تو بہت سارے فنکار مجھے فون کرکے کہتے ہیں تم نے بالکل صحیح بات کی لیکن وہ تمام فنکار سوشل میڈیا پر مجھے نہیں سراہتے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ انہیں لوگوں سے گالیاں پڑیں گی اور وہ لوگوں کی جانب سے پڑنے والی گالیوں سے ڈرتے ہیں لیکن میں نہیں ڈرتا ان گالیوں سے۔

یاسر نے کہا کہ یہ سب آسان اس طرح ہے کہ آپ ایک پراجیکٹ کرتے ہیں اور سپرسٹار بن جاتے ہیں لیکن مشکل اس لیے کیونکہ میری طرح عوام بھی ایک رائے رکھتی ہے جو آپ کو برداشت کرنی پڑتی ہے تاہم یہ سب انھیں اپنی رائے کا اظہار کرنے سے روکتا نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم انسان ہیں، زندہ ہیں بولیں گے، بات کریں گے جو بات میں کر رہا ہوں وہ بھی تو معاشرے میں ہو رہی ہے، میں سچ بول رہا ہوں جھوٹ تو نہیں بول رہا۔‘

یاسر حسین نے کہا آج ہر چینل تنازع پر زندہ ہے۔ انہوں نے واسع چوہدری کے شو کے ’’گھبرانا نہیں ہے‘‘ کے بارے میں کہا مجھ سے پہلے اس شو میں ہمایوں سعید اور ماہرہ خان آئے تھے لیکن اس وقت تک اس شو کا نام کوئی نہیں جانتا تھا اور پھر شو کی تیسری قسط میں میں گیا اور آج اس شو کا نام سب کو پتہ ہے۔

یاسر حسین نے کہا وہ حقیقی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں وہ اپنی جھوٹی امیج دنیا کے سامنے نہیں لاتے۔ یاسر حسین نے ترک ڈرامے ’’ارطغرل‘‘ کی مثال دیتے ہوئے کہا میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہمیں دوسروں کے چلے ہوئے ڈرامے اپنے یہاں سستے میں چلانے کے بجائے ان کے ساتھ مل کر کو پروڈکشنز کرنی چاہئیں اس میں ہمیں فائدہ ہوگا۔ آج ہمایوں سعید اور عدنان صدیقی ترک پروڈکشنز کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں اور یہ اچھی بات ہے۔

ایک ایوارڈ شو کے دوران اقرا عزیز کو سب سے سامنے شادی کی پیشکش اور پھر اس سے اٹھنے والے تنازع کے بارے میں یاسر حسین نے کہا میں نے ایک چیز کی، اقرا کو بہت اچھی لگی کتنے لوگ سب کے سامنے شادی کی پیشکش کرتے ہیں اور وہ بھی ایسی جسے پوری دنیا دیکھ رہی ہو۔ ہماری انڈسٹری میں کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اپنے معاشقے چھپا چھپا کر مرے جارہے ہیں میں نے نہیں چھپایا۔ سب کے سامنے محبت کا اظہار کیا اور مردانہ کام کیا۔ یاسر حسین نے کہا ہر کسی کو اپنی بیوی کی عزت کرنی چاہئے اور پیار کرنا چاہئے سامنے بھی اور پیچھے بھی۔

یاسر کا کہنا ہے کہ جب کوئی ایسا کردار ملتا ہے جو الگ ہو تو کرنا پڑتا ہے جیسے باندی میں میرا کردار ہےان اداکاروں کو بھی مزا نہیں آتا جو ڈرامے کرتے ہیں، انھیں عادت ہے بس ڈرامہ کرنے کی۔ اور شاید انھیں نہیں پتا کہ کسی اور ٹیلنٹ کے ذریعے پیسے کما سکتے ہیں۔

دوسری بات جو یاسر حسین کو کھٹکتی ہے وہ یہ کہ مردوں کے لیے ڈراموں میں کوئی کردار نہیں یا تو وہ اچھا ہے یا برا، گرے کا کوئی مارجن نہیں ہے۔ کوئی بندہ ایسا ہے ہی نہیں جو کسی زمانے میں برا تھا اور پھر اچھا ہو گیا ہو۔‘

یاسر حسین اپنی آنے والی فلموں میں ’پیچھے تو دیکھو‘، ’چوہدری‘ اور ٹیلی فلم ’گرو چیلا‘ کے بارے میں خاصے پر جوش ہیں کیونکہ ان تمام ہی فلموں میں ان کے کردار مختلف ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.