بائیڈن کی جیت کا باقی ممالک پرکیا اثرپڑے گا؟عالمی تعلقات: حالات اورمعاملات پربرطانوی نشریاتی ادارےکی زبردست رپورٹ

لندن :بائیڈن کی جیت کا دنیا کے باقی ممالک پر کیا اثر پڑے گا؟برطانوی نشریاتی ادارے کی زبردست رپورٹ ،اطلاعات کے مطابق دنیا میں معروف برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے امریکی صدر جوبائیڈن کے جیتنے کے بعد امریکہ اورعالمی دنیا کے تعلقات ،حالات اورمعاملات کوگہری نظرسے دیکھتے ہوئے عالمی مبصرین کی رائے کو دنیا تک پہنچایا ہے،

بی بی سی لکھتا ہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چار سالہ دورِ اقتدار میں دنیا بھر کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں واضح بدلاؤ دیکھا گیا۔

بیجنگ سے لے کر برلن تک پوری دنیا سے بی بی سی کے نامہ نگاروں نے بتایا کہ بائیڈن کی فتح کی خبر پر کس طرح کا ردِعمل سامنے آ رہا ہے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

بیجنگ سے جان سوڈورتھ لکھتے ہیں: جو بائیڈن کی فتح چینیوں کے لیے ایک اور چیلنج پیش کر رہی ہے۔

شاید آپ کو لگے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ہار سے بیجنگ کو خوشی ہوگی۔ انھوں نے چین کو تجارتی طور پر نشانہ بنایا، چین پر کئی طرح کی پابندیاں لگائیں اور کورونا وائرس کے لیے بھی انھیں ذمہ دار ٹھہرایا۔

لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اندر سے چینی قیادت اب مایوسی کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ ٹرمپ کو پسند کرتے تھے، بلکہ اس لیے کہ وائٹ ​​ہاؤس میں ان کے مزید چار سالوں نے امریکہ میں مزید خرابی کا امکان ختم کر دیا ہے۔

ملک میں تفرقے بازی، عالمی دنیا میں تنہائی، ٹرمپ بیجنگ کے لیے ایک ایسے شخص تھے جو امریکی اثر و رسوخ اور طاقت میں کمی لانے کا سبب بن سکتا ہے۔

چین

چین میں ملک کی کمیونسٹ پارٹی کے زیرانتظام ٹی وی نیوز بلیٹن کے ذریعہ یہ پیغام نشر کیا گیا۔ انھوں نے نہ صرف انتخاب پر توجہ دی – بلکہ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ میں احتجاج، بے چینی اور کورونا وائرس کی بڑھتی ہوئی شرح پر بھی توجہ مرکوز کی۔

یقیناً چین ماحولیاتی تبدیلی جیسے بڑے معاملات پر امریکہ کے ساتھ تعاون کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ لیکن انھوں نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ دیگر ممالک کے ساتھ امریکہ کے اتحاد کو بحال کرنے کے لیے کام کریں گے، جو چین کے سپر پاور عزائم کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

بائیڈن کی فتح جمہوری کنٹرول کے بغیر چلائے جانے والے چینی نظام کے لیے ایک اور چیلنج پیش کرتی ہے۔ اقتدار کی منتقلی اس بات کا ثبوت ہو گا کہ امریکییوں کے اقدار آج بھی برقرار ہیں۔

دہلی سے راجنی ویدیاناتھھن لکھتی ہیں: کملا ہیریس کے آباؤ اجداد کا تعلق انڈیا سے ہونے پر وہاں کے عوام فخر محسوس کر رہے ہیں لیکن ٹرمپ کے مقابلے میں نریندر مودی کو جو بائیڈن سے زیادہ سردمہری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انڈیا ایک طویل عرصے سے امریکہ کا اہم پارٹنر رہا ہے – اور بائیڈن کی صدارت کے دوران مجموعی طور پر ان تعلقات میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔

چین کے اثر و رسوخ کو روکنے اور عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی انڈو پیسیفک حکمتِ عملی کے لحاظ سے جنوبی ایشیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک اہم اتحادی رہے گا۔

تاہم بائیڈن اور انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کے مابین ذاتی تعلقات میں کچھ مشکلیں آ سکتیں ہیں۔ ٹرمپ، مودی کی متنازعہ اندورنی پالیسیوں پر تنقید کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔

بائیڈن بغیر لگی لپٹی بات کرنے کے عادی ہیں۔ ان کی انتخابی مہم کی ویب سائٹ پر کشمیریوں کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) اور شہریت کے متنازعہ قانون (سی اے اے) پر تنقید کی گئی ہے۔ یہ وہ دو قوانین ہیں جنھوں نے انڈیا میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کو جنم دیا۔

نومنتخب نائب صدر کملا ہیرس – جو آدھی انڈین ہیں، نے بھی ہندو قوم پرست حکومت کی کچھ پالیسیوں کے خلاف اظہار خیال کیا ہے۔ لیکن ان کے انڈیا سے تعلق پر ملک کے بیشتر حصوں میں بڑے پیمانے پر جشن منایا جائے گا۔ چنئی شہر میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی ایک انڈین خاتون کی بیٹی جلد ہی وائٹ ہاؤس میں سیکنڈ ان کمانڈ ہوں گی، یقیناً یہ قومی فخر کا لمحہ ہے۔

سیئول سے لارا بیکر لکھتی ہیں: شمالی کوریا نے ایک بار بائیڈن کو ’پاگل کتے‘ سے تشبیہ دی تھی – لیکن اب کم جونگ ان نئے امریکی صدر کو مشتعل کرنے کی کوئی بھی کوشش کرنے سے پہلے ضرور سوچیں گے۔

خیال تو یہی ہے کہ کِم چاہتے ہوں گے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، مزید چار سال صدر رہتے۔

اگرچہ ٹرمپ کے دورِ اقدار میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ملاقاتیں کیں، اکھٹے تصاویر بھی کھنچوائیں جو تاریخ کی کتابوں میں تو جگہ بنائیں گی لیکن کسی اہم معاہدے پر دستخط نہ ہو پائے۔ ان مذاکرات میں کسی بھی فریق کو وہ چیز نہیں ملی جس کی وہ خواہش رکھتے تھے: شمالی کوریا نے اپنے جوہری ہتھیار بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور دوسری جانب امریکہ بھی سخت پابندیاں عائد کرنے سے باز نہیں رہا۔

جو بائیڈن نے شمالی کوریا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صرف اس صورت میں کم جونگ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی ملاقات کریں گے جب شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو ترک کرنے پر رضا مندی ظاہر کرے۔ بہت سارے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر بائیڈن کی ٹیم پیانگ یانگ کے ساتھ جلد بات چیت کا آغاز نہیں کرتی، تو کشیدگی کے دن واپس آسکتے ہیں۔

کِم، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تجربات دوبارہ کرکے، واشنگٹن کی توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں، لیکن وہ تناؤ میں اس حد تک اضافہ نہیں کرنا چاہیں گے کہ پہلے ہی سے اس غریب ریاست کو مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے۔

جنوبی کوریا پہلے ہی شمالی کوریا کو انتباہ دے چکا ہے کہ وہ اشتعال انگیز راہ پر گامزن نہ ہو۔ شاید کبھی سیئول کو ڈونلڈ ٹرمپ سے تعلقات بنانے میں مشکل پیش آئی ہو – لیکن صدر مون کوریا میں 70 سالہ جنگ کا خاتمہ کرنے کے خواہاں ہیں اور انھوں نے ٹرمپ کی کم سے ملاقات کرنے کی ’ہمت‘ کی تعریف کی تھی۔ شمالی کوریا یقیناً چاہیے گا کہ بائیڈن بھی ایسا ہی کرنے پر رضامندی ظاہر کریں۔

لندن سے سیاسی نمائندہ جیسیکا پارکر لکھتی ہیں: جو بائیڈن کے دورِ صدارت میں امریکہ اور برطانیہ کے درمیان’خصوصی تعلقات‘ کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دونوں ممالک کو حلیف کی حیثیت سے نہیں دیکھا جائے گا: جو بائیڈن ایک تجربہ کار ڈیموکریٹ ہیں جبکہ بورس جانسن بریگزیٹ والے ایک شعلہ زبان وزیرِ اعظم ہیں۔

مستقبل کے ان کے تعلقات کیسے چل سکتے ہیں، یہ دیکھنے کے لیے ماضی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر 2016 کا وہ آخری سال جب ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کامیابی حاصل کی تھی اور برطانیہ نے یورپی یونین چھوڑنے کے لیے ووٹ دیا تھا۔ اس وقت جو بائیڈن اور ان کے باس، براک اوباما نے کھلے عام بتا دیا تھا کہ بریگزیٹ کے بارے میں وہ کسی اور طرح کے نتائج کو ترجیح دیں گے۔

بریگزیٹ کے سلسلے میں برطانوی حکومت کی حالیہ تدابیر، امریکہ میں اہم ڈیموکریٹس، نو منتخب صدر اور آئرش لابی کو کچھ خاص پسند نہیں آئیں۔ بائیڈن نے کہا تھا کہ اگر وہ منتخب ہوئے تو بریگزیٹ کی وجہ سے شمالی آئر لینڈ کے امن کو خراب نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں امریکہ اور برطانیہ کے درمیان کوئی بھی معاہدہ صرف اس صورت میں ممکن ہو گا اگر اس میں گڈ فرائیڈے والے معاہدے کا احترام شامل ہو۔

یاد ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے بورس جانسن کو ’برطانیہ کا ٹرمپ‘ پکارا تھا؟ خیر بائیڈن نے بھی بھی بظاہر اس سے اتفاق کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیر اعظم کو ٹرمپ کے ’جسمانی اور جذباتی کلون‘ کے طور پر بیان کیا تھا۔ لہذا یہ ممکن ہے کہ شروع میں جو بائیڈن لندن کے بجائے برسلز، برلن یا پیرس کے ساتھ بات چیت کرنے کے خواہاں ہوں۔ دونوں ممالک کے درمیان ’خاص رشتے‘ کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ کرسکتا ہے۔

تاہم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں افراد کسی مسئلے پر اکھٹے ہو جائیں۔ خیر سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے علاوہ دونوں ممالک کے دیرینہ اور گہرے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔

ماسکو سے سٹیون روزن برگ لکھتے ہیں: روس کے لیے بائیڈن کی جیت کا مطلب ہے ایک ایسی انتظامیہ جس کے متعلق آپ پیش گوئی کر سکیں۔

کریملن میں بیانات کو بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ چنانچہ جب حالی میں جو بائیڈن نے روس کو امریکہ کے لیے ’سب سے بڑا خطرہ‘ قرار دیا ہے تو ماسکو میں اس بیان پر اچھا خاصا ردِعمل دیکھا گیا۔

کریملن کی یادداشت بھی بہت طویل ہے۔ 2011 میں نائب صدر بائیڈن نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ اگر وہ پوتن ہوتے تو دوبارہ صدر کے عہدے کا انتخاب نہیں کرتے: یہ ملک اور خود ان کے لیے برا ہوگا۔ صدر پوتن یہ بات کبھی نہیں بھول سکتے۔

بائیڈن اور پوتن بہترین سیاسی حالات میں ہم خیال دوستوں کی طرح نہیں ہیں۔ ماسکو کو خدشہ ہے کہ بائیڈن کی صدارت کا مطلب واشنگٹن سے زیادہ دباؤ اور زیادہ پابندیاں ہوں گی۔ تو کیا وائٹ ​​ہاؤس میں ایک ڈیموکریٹ کی موجودگی کا مطلب اب یہ لیا جائے کہ روس کو سنہ 2016 کے امریکی انتخابات میں مبینہ مداخلت کرنے کا جواب دینا ہو گا؟

ایک روسی اخبار نے حال ہی میں دعوی کیا ہے کہ ٹرمپ کے زیرِ اقتدار، امریکہ اور روس کے تعلقات بہت خراب ہو گئے تھے۔ لیکن اخبار نے بائیڈن کو ایک ایسے ’کھدائی کرنے والے‘ سے تشبیہ دی جو ’اور بھی گہری کھوج‘ لگانے والا تھا۔ اس میں حیرت کی بات نہیں ہونی چاہیے کہ ماسکو خوش نہیں ہے۔

لیکن ایک چیز کریملن کے لیے خوشی کا باعث ہو سکتی ہے۔ روسی مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم سے زیادہ وہ بائیڈن انتظامیہ کے متعلق بہتر پیش گوئی کر سکیں گے۔ اس سے امریکہ اور روس کے درمیان کچھ امور پر سمجھوتہ کرنا آسان ہو سکتا ہے کیونکہ فروری میں دونوں ممالک کے درمیان جوہری ہتھیاروں میں کمی کے اہم معاہدے کی میعاد ختم ہو رہی ہے۔

ماسکو نئے وائٹ ہاؤس کے ساتھ باہمی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن اس میں کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

برلن سے ڈیمین میک گینس لکھتے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ کے جانے کے بعد جرمنوں کو اپنے کلیدی حلیف کے ساتھ دوبارہ بہتر تعلقات استوار کرنے کی امید ہے۔اس نتیجے پر جرمنی سکون کی سانس لے گا۔

پیو ریسرچ سنٹر کے مطابق صرف 10 فیصد جرمن، صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر اعتماد کرتے ہیں۔ وہ کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں جرمنی میں زیادہ غیر مقبول ہیں۔ یہاں تک کہ جرمنی میں روس کے پوتن اور چین کے ژی جنپنگ کو بھی پسند کیا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انھوں نے آزادانہ تجارت کو نقصان پہنچایا اور ان ملٹی نیشنل اداروں کو ختم کیا جس پر جرمنی معاشی طور پر انحصار کرتا ہے۔ چین کے ساتھ امریکہ کے تنازعات نے جرمنی کے برآمد کنندگان کو نقصان پہنچایا ہے۔

اور چانسلر انجیلا مرکل کے ساتھ بھی ان کے تعلقات اچھے نہیں ہیں – دونوں قائدین اخلاقیات اور شخصیت میں بالکل مختلف ہیں۔ جرمنی کے سیاست دان اور ووٹر، ٹرمپ کے انداز، حقائق کے بارے میں ان کے غیر روایتی رویے اور جرمنی کی کار انڈسٹری پر ان کے متواتر حملوں سے بھی حیرت زدہ ہیں۔

جرمنی
اس کے باوجود امریکہ جرمنی کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور یورپ کی سلامتی کے لیے ٹرانزاٹلانٹک تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ چنانچہ ٹرمپ کی صدارت ایک تکلیف دہ سواری کی طرح رہی ہے۔ جرمنی کے وزرا نے صدر ٹرمپ کے ووٹوں کی گنتی روکنے کے مطالبات اور انتخابی دھوکہ دہی کے ان کے غیر یقینی دعوؤں پر تنقید کی ہے۔ وزیر دفاع اینگریٹ کرامپ – کرین بوؤر نے اس صورتحال کو پریشان کن قرار دیا۔

کئی افراد کا ماننا ہے کہ واشنگٹن اور برلن کے مابین پالیسیوں کے بڑے اختلافات بائیڈن صدارت میں ختم نہیں ہوں گے۔ لیکن برلن ایسے صدر کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے جو کثیر الجہتی تعاون کو اہمیت دیتے ہیں۔

بی بی سی کی فارسی سروس کے نمائندے قصرا ناجی لکھتے ہیں: بائیڈن کی فتح تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لا سکتی ہے۔

امریکی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہو گئے تو انھیں سب سے پہلی ٹیلیفون کال ایران کے رہنماؤں کی طرف سے آئے گی جس میں وہ بات چیت کرنے پر آمادگی کا اظہار کریں گے۔

لیکن اگر ٹرمپ جیت جاتے تو جس فون کال کے وہ خواب دیکھ رہے تھے، انھیں کبھی نہیں آنے والی تھی۔ ایران کے لیے ٹرمپ انتظامیہ سے مذاکرات کرنا ناممکن ہوتا۔ یہ ایک بہت ذلت آمیز منظر ہوتا۔

صدر ٹرمپ کے زیرِ صدارت امریکی پابندیوں اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی نے ایران کو معاشی تباہی کے کنارے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ٹرمپ جوہری معاہدے سے دستبردار ہوگئے۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ انھوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی دوست جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم دیا۔ ان کے قتل کا بدلہ لینا سخت گیروں کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

جو بائیڈن کا انتخاب ایران کے لیے امریکی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے عمل کو آسان بنا سکتا ہے۔ نو منتخب صدر بائیڈن کے ماضی کے واقعات نہیں جڑے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ سفارت کاری کو استعمال کرنا چاہتے ہیں اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر واپس جانا چاہتے ہیں۔

لیکن ایران کے سخت گیر رہنما آسانی سے میز پر نہیں آئیں گے۔ امریکہ میں 3 نومبر کو جب انتخابات ہو رہے تھے، سپریم لیڈر نے دعوی کیا کہ انتخابات کا تہران کی پالیسیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انھوں نے کہا ’ایران نے ایک سمجھدار اور محتاط اندازے والی پالیسی پر عمل کیا ہے جو واشنگٹن میں شخصیات کی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہوسکتی۔‘

خاموشی سے امریکی انتخابات کو اپنے غیرقانونی سیٹلائٹ ٹی وی کی سکرینوں پر دیکھتے ہوئے لاکھوں ایرانی شاید مختلف طرح سے سوچ رہے ہوں، ان کے مستقبل کا انحصار نتائج پر منحصر ہے اور امید ہے کہ بائیڈن کی فتح سے پابندیاں ختم ہوجائیں گی۔

یروشلم سے ٹام بٹیمن لکھتے ہیں: امکان یہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کا تسلسل جاری رہے گا۔

اپنے دور میں صدر ٹرمپ نے تہران میں اپنے مخالفین کو الگ تھلگ کرتے ہوئے، امریکہ کے روایتی علاقائی اتحادیوں کو استحکام پہنچانے کی بھرپور کوشش کی۔

نومنتخب صدر بائیڈن مشرق وسطی کے بارے میں امریکی پالیسی کو اسی حالت میں بحال کرنے کی کوشش کریں گے جس میں انھوں نے براک اوباما کے ماتحت نائب صدر کی حیثیت سے چھوڑا تھا: وہ ٹرمپ کی ایران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ والی کیمپین کے اثرات کو کم کرنے اور اس کے تحت دو سال قبل ترک کیے گئے 2015 والے جوہری معاہدے پر واپس جانا چاہیں گے۔

اسرائیل اور خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس امکان سے خوف زدہ ہیں۔ ایک اسرائیلی وزیر نے بائیڈن کی ممکنہ جیت کے جواب میں کہا کہ اس پالیسی کے خاتمے کا نتیجہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ’پُرتشدد تصادم‘ کی صورت میں نکلے گا۔ کیونکہ ہم ایکشن لینے پر مجبور ہوجائیں گے۔

بائیڈن کی جیت اسرائیلی فلسطین تنازع کے بارے میں امریکی رویہ کو ڈرامائی انداز میں بدل سکتی ہے۔ ٹرمپ کے پلان کو اسرائیل کی بھاری حمایت کرنے اور مقبوضہ مغربی کنارے کے حصے کو ملانے کا موقع فراہم کرنے کے طور پر دیکھا گیا۔ اسرائیل اور متعدد عرب ریاستوں کے مابین تعلقات قائم کرنے والے تاریخی معاہدوں میں بھی امریکہ نے مدد کی۔

بائیڈن کے زیرِ صدارت علاقائی صورتحال کو ’معمول پر لانے‘ کی مہم جاری رکھے جانے کا امکان ہے، لیکن وہ خلیج کو متنازعہ امریکی ہتھیاروں کی فروخت میں کمی لانے کی کوشش کرسکتے ہیں اور امکان ہے کہ اسرائیل مزید مراعات حاصل کرے گا۔ لیکن اب مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کو ملانے کا کوئی موقع نظر نہیں آ رہا ہے اور بائیڈن کو بھی اسرائیلیوں کی جانب سے مزید آباد کاری پر اعتراض ہوگا۔

لیکن جس یو ٹرن کا مطالبہ اس ہفتے ’فلسطین کے ایک عہدے دار‘ نے کیا، وہ پورا نہیں ہو سکے گا۔ اب ’دو ریاستوں کے قیام‘ سے متعلق روایتی مذاکرات ہوں گے، لیکن اسرائیل فلسطین کے امن عمل میں زیادہ پیشرفت کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔

قاہرہ سے سیلی نبیل لکھتے ہیں: انسانی حقوق کے لیے مہم چلانے والوں کو امید ہے کہ بائیڈن انتظامیہ مصر پر انسانی حقوق کے حوالے سے دباؤ بڑھائے گی۔

مصر کے فوج کے حمایت یافتہ صدر عبد الفتاح السیسی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات استوار کیے۔ ان کے لیے یہ بہتر ہوتا کہ ان کے دوست وائٹ ہاؤس میں ہی رہتے، لیکن اب انھیں جو بائیڈن کے ساتھ ایک نیا باب شروع کرنا پڑے گا۔

صدر سیسی کے ناقدین نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کی انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ مصر کو امریکی فوجی امداد کی مد میں ہر سال 1.3 بلین ڈالر ملتے ہیں۔ 2017 میں انسانی حقوق کے خدشات کے پیش نظر اس امداد کی ایک چھوٹی سی مقدار کو معطل کردیا گیا تھا لیکن اگلے سال اسے بحال کردیا گیا تھا۔

یہاں انسانی حقوق کے بہت سے گروپ، جو بائیڈن کی فتح کو ایک اچھی خبر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کارکنوں کو امید ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ مصری حکومت پر دباؤ ڈالے گی کہ وہ حزب اختلاف کی جانب اپنی سخت پالیسیاں تبدیل کرے – ہزاروں سیاسی قیدی مبینہ طور پر جیلوں میں ہیں۔ مصری حکام نے ہمیشہ ان خبروں کی تردید کی ہے۔

ایک سیاسی تجزیہ کار احمد سید احمد کہتے ہیں ’اوول آفس میں کون بیٹھا ہے اس سے قطع نظر، امریکہ اور مصر کے تعلقات ہمیشہ سٹریٹجک رہے ہیں۔ شراکت داری جاری رہے گی، لیکن ہوسکتا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں ڈیموکریٹس کیے بیانات کو کچھ مصریوں اچھا نہ سمجھیں، وہ اسے اپنے ملک کے معاملات میں مداخلت کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

بی بی سی کے کیوبا کے نمائندے ول گرانٹ لکھتے ہیں: سخت پابندیوں کے بعد، جو بائیڈن کی فتح سکون کا باعث ہے۔

بائیڈن کا ایک عہد صدارت بالکل ویسا ہی ہو گا جس کی کیوبا میں زیادہ تر افراد کو امید ہے۔ در حقیقت اس جزیرے پر لوگوں کی اکثریت خوشی خوشی ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ وائٹ ہاؤس میں کسی کو بھی قبول کر لے گی۔ ان کی پابندیوں نے واقعی مشکلات لا کھڑی کیں اور چار سال ان پابندیوں میں رہ رہ کر کیوبن تھک گئے ہیں۔

دوسری طرف جو بائیڈن، صدر اوباما کے دور میں کیوبا اور امریکہ کے تعلقات کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ در حقیقت، یہ کہا جاتا ہے کہ سابق نائب صدر نے ان تعلقات کو بہتر بنانے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ہوانا میں کمیونسٹ کے زیرانتظام حکومت کا کہنا ہے کہ تمام امریکی صدور لازمی طور پر ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔ لیکن بنیادی اشیائے زندگی کی تلاش میں لگے اور رزمرہ اخراجات پورا کرنے کی جدوجہد کرنے والوں کے لیے، بہرحال یہ احساس بہت زیادہ راحت بخش ہوگا۔

کیوبا کے نقطہ نظر سے واحد پریشان کن بات یہ ہے کہ بائیڈن اب بخوبی جان چکے ہیں کہ فلوریڈا کے انتخاب میں، کیوبا کے ساتھ ٹرمپ کا سخت رویہ، کس طرح رائے دہندگان پر اثر انداز ہوا تھا۔ انھیں خدشہ ہے کہ اب وہ ٹرمپ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں میں سے کچھ کو ختم کرنے کی طرف، شاید ہی مائل ہوسکیں۔

ٹورنٹو سے جیسیکا مرفی لکھتی ہیں: جسٹن ٹروڈو کو اپنے نئے پڑوسی میں ایک اتحادی نظر آئے گا۔

اس بات سے قطعہ نظر کے امریکہ کا انتخاب کون جیتتا ہے، کینیڈا کے وزیر اعظم نے امریکہ سے تعلقات کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا تھا – لیکن ڈیموکریٹ جو بائیڈن کی کامیابی پر اوٹاوا میں راحت محسوس کی گئی۔

امریکہ کے ساتھ کینیڈا کے تعلقات صدر ٹرمپ کے زیرِ صدارت مستحکم رہے ہیں، اگرچہ ان میں کچھ تناؤ بھی آتا رہا ہے۔ میکسیکو کے ساتھ ساتھ، شمالی امریکہ کے آزاد تجارتی معاہدے کی کامیابی بھی اس میں شامل ہیں۔

لیکن جسٹن ٹروڈو نے واضح کیا ہے کہ وہ سابق صدر براک اوباما کے ساتھ خاص سیاسی تعلق محسوس کرتے ہیں – جنھوں نے کینیڈا کے حالیہ وفاقی انتخابات کے دوران ان کی حمایت کی تھی۔

اس گرم جوشی کا احساس اسی شخص تک بھی جاتا ہے جس نے اوباما کے نائب صدر – جو بائیڈن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

بائیڈن کی صورت میں، ٹروڈو کی لبرل پارٹی کو ماحولیاتی تبدیلی اور کثیرالجہتی معاملات پر ایک اتحادی مل جائے گا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی انتظامیہ کے ساتھ تنازعات کے مواقع موجود نہیں ہیں۔

صدر ٹرمپ نے البرٹا سے ٹیکساس کیسٹون ایکس ایل آئل پائپ لائن کی تعمیر کی اجازت دی، جسے کینیڈا کے مشکلات کا شکار توانائی کے شعبے کے لیے امید کی کرن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

کورونا وائرس کے بعد امریکی صنعت کو بحال کرنے والا جو بائیڈن کا معاشی منصوبہ، کینیڈا کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ وہ امریکہ کے ساتھ تجارت پر بہت انحصار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.