fbpx

آب و ہوا میں تبدیلی اورہرجگہ منفی اثرات کی وجہ سےویسٹرن مونارک تتلیاں ناپید ہونے کے قریب

ایریزونا: پچھلی چند دہائیوں کے دوران حالیہ کئی مطالعات میں کیڑوں میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہےجن میں ویسٹرن بٹرفلائی بھی شامل ہیں-

باغی ٹی وی : ویسٹرن بٹر فلائی ایک زمانے میں مشہور تتلیاں ہوا کرتی تھیں اور گزشتہ 40 سال سے اب تک ہرسال ان کی تعداد میں 1.6 فیصد کم ہورہی ہے اس حوالے سے بین الاقوامی سائنسی جریدے سائنس میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق 450 مختلف اقسام کی تتلیوں کا سروے کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ 1980 سے اب تک ویسٹرن مونارک تتلیوں کی آبادی 99.9 کم ہوچکی ہے۔

’ چند برس قبل مونارک تتلیوں کی آبادی لاکھوں میں تھیں اور اب ان کی کل تعداد 2000 نوٹ کی گئی ہیں،‘ تحقیق میں شامل سائنسداں کیٹی پروڈِک نے کہا جو جامعہ ایریزونا سے تعلق رکھتی ہیں۔

ان کے خیال میں ویسٹرن مونارک تتلیاں اب معدومیت کے قریب جاپہنچی ہیں۔ اس کے علاوہ کیبج وائٹ اور دیگر اقسام کی تتلیاں بھی تیزی سے ختم ہورہی ہیں کیونکہ ان کا قدرتی گھر (مسکن) تباہ ہورہا ہے اس کے علاوہ دور تک نقل مکانی کرنے والی ویسٹ کوسٹ لیڈی تتلیاں بھی غائب ہوتی جارہی ہیں۔

اس تحقیق میں عام شوقین افراد، ماہرین اور تتلیوں سے وابستہ سائنسدانوں نے مغربی امریکا سے جمع کردہ 40 سالہ ڈیٹا پیش کیا ہے اس میں موسمیاتی تبدیلیوں اور تتلیوں کے قدرتی مسکن اور زمین کو بھی شامل کیا گیا ہے تاہم اس میں مغربی یورپ کے گنجان آبادیوں میں تتلیوں کا احوال بھی شامل ہے لیکن آب و ہوا میں تبدیلی ہر جگہ منفی اثرات کی وجہ بن رہی ہے اور تتلیوں کی اقسام معمولی گرمی سے بھی شدید متاثر ہورہی ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موسمِ بہار سمیت پورے سال موسمی حدت بڑھ رہی ہے یہ تتلی جیسے حساس جاندار پر دباؤ ڈال رہا ہے ان کی نشوونما متاثر ہوتی ہے اورہائبرنیشن کا عمل بھی متاثر ہورہا ہے پھر موسمیاتی تبدیلیوں سے ان کی خوراک اور پودے بھی کم ہوتے جارہے ہیں اسی وجہ سے تتلیوں کی کئی اقسام نقل مکانی پر بھی مجبور ہیں مثلاً سویلوٹیل بٹرفلائی اپنے اصل مسکن سے 325 کلومیٹر دور جاچکی ہے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.