fbpx

حب آف منی لانڈرنگ تحریر: محمد اسعد لعل

پیسہ ہاتھ کی میل سمجھا جاتا ہے اگر یہ پیسہ ناجائز طریقہ سے کمایا جائے تو ہاتھ کے ساتھ ساتھ نصیب بھی میلا کر دیتا ہے۔منی لانڈرنگ ایک کالا دھندا ہے جس میں غیر قانونی طریقوں سے کمائے گئے کالے پیسے کو سفید میں بدلا جاتا ہے۔جب کوئی مجرمانہ کاروائی سے پیسے کماتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس پیسے کی غیر قانونی حیثیت عیاں نہ ہو۔پیسے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر کے اس کی ابتداء کو چھپایا جاتاہے۔
پاکستان کا پیسہ، انڈیا کا پیسہ، افغانستان کا پیسہ اور دنیا کے غریب ممالک یا ترقی پزیرممالک کا پیسہ کون اور کیسے کھا جاتاہے؟آخر منی لانڈنگ ہو کہ پیسہ جاتا کہاں ہے؟
اس کے اوپر عالمی سطح پر کام شروع ہوا ہے، پاکستان نے اس معاملے کو اُٹھایا ۔اس سے پہلے کو ئی اور اس بارے میں بولنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔دنیا کے حکمران اس پر بات کیوں نہیں کرتے یہ ایک اہم سوال ہے۔
برطانیہ کو منی لانڈرنگ کا حب سمجھا جاتا ہے۔برطانیہ کیسے دنیا بھر کا پیسہ اکٹھا کرتا ہے اس پر ٹرانسپیریسی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ شائع کی ۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کا جو گندا پیسہ ہےوہ کچھ مددگار کمپنیوں کے ذریعے سے "یو کے” میں اکٹھا کیا جاتا ہے۔اور پھر دو نمبر طریقے سے "یو کے” کے آف شور سنٹرز تک یہ پیسہ پہنچتا ہے۔ اس پیسہ کوپھر برطانیہ کی لگژری قسم کی پراپرٹیز میں انویسٹ کیا جاتا ہے۔ یعنی پہلے یہ پیسہ ان ممالک سےجہاں پر کرپشن کی گئی ہو، برطانیہ پہنچایا جاتا ہے۔برطانیہ میں اس پیسے کو آف شور کمپنیز میں چھپایا جاتا ہے پھر اس پیسے سے آف شور کمپنیز کے ذریعے پراپرٹیز خریدی جاتی ہیں ، لیکن یہ پتا نہیں چلتا کہ پراپرٹیز کس کی ہیں۔ مثال کے طور پہ برطانیہ میں ایک آدمی کے پاس دس ارب کی پراپرٹی ہے مگر وہ اس کے اپنے نام پر نہیں لی ہوئی۔اس نے پاکستان یا کسی دوسرے ملک سے پیسہ منی لانڈنگ کر کے برطانیہ پہنچایا ، برطانیہ میں وہ پیسہ آف شور کمپنی میں ڈالا گیا ۔اب آف شور کمپنی کا مالک کون ہے یہ کسی کو نہیں پتا۔ وہ کمپنی پراپرٹیز خرید لیتی ہے۔ اب مالک اور پراپرٹیز کے درمیان ایک آف شور کمپنی آ جاتی ہے لحاظہ اصل مالک کا کسی کو پتا ہی نہیں چلتا۔یہ وہ طریقہ واردات ہے۔
برطانیہ میں داخل ہونے والی دو نمبر رقم کا پیمانہ سالانہ اربوں پاؤنڈ سے کہیں زیادہ ہے۔اب یہ دیکھتے ہیں کہ برطانیہ حکومت ان منی لانڈرز کا دفاع کیسے کرتی ہے۔
برطانیہ کی گولڈن ویزہ کی ایک پولیسی ہے۔جو بدعنوانی کے اور کرپشن کے پیسوں کو ملک کے اند خوش آمدید کہتی ہے۔اس پولیسی کے تحت اگرآپ کے پاس دو ملین پونڈز ہیں تو آپ برطانیہ کا گولڈن ویزہ لے کر وہاں جا کر کاروبار کر سکتے ہیں ۔اپنا پیسہ وہاں لگائیں کوئی آپ سے نہیں پوچھے گا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔تین چیزیں جو برطانیہ کے قانون کے اندر موجود ہیں جن کی وجہ سے منی لانڈرنگ کا پیسہ پکڑا نہیں جاتا۔
نمبر 1: برطانیہ کا قانون کمپنی مالکان کا نام چھپانےکی اجازت دیتا ہے۔مثال کے طور پر میں برطانیہ میں کوئی اربوں روپے کی پراپرٹی میں رہتا ہوں ۔یہ تو سب کو پتا چل جائے گا کہ اس پراپرٹی میں رہتاکون ہے پر وہ اس پراپرٹی کا مالک نہیں ہے اب مالک کون ہے؟ وہ کوئی آف شور کمپنی ہے اور آف شور کمپنی کا مالک کون ہے اس کا پتا برطانوی قانون نہیں لگنے دیتا۔
نمبر2: پولیس اس چیز کو ڈیٹیکٹ نہیں کر سکتی کہ ان کمپنیوں کی ناجائز دولت کی ابتداء کیسے ہوئی۔
نمبر3اور آخری چیز جو برطانیہ کے قانون میں اس غیرقانونی پیسے کو سپورٹ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ برطانوی کمپنیوں کا رازداری کا نظام عالمی سطح پر معاشی جرائم کو سہولت فراہم کرتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ جو 2017 میں شائع ہوئی جسکے مطا بق پاکستان سے ہر سال دس ارب امریکی ڈالرمنی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان سے باہر پہنچ جاتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے 2020 میں اقوامِ متحدہ کے ایک پینل سے کچھ مطالبات کیے تھے ان میں سے 4 مطالبات بہت مقبول ہوئے۔
انہوں نے پہلا مطالبہ یہ کیا کہ ایسے مالی ادارے جو اس طرح کی رقوم حاصل کرتے ہیں ان کو بھی قانون کے دائرے میں لانا چاہیے۔
دوسرا ،ترقی پزیر ممالک سے لوٹا گیا پیسہ انہیں واپس ہونا چاہیے۔
تیسرا ،بین الاقوامی برادری کو غیر قانونی دولت کے بہاؤ کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اُٹھانے کے لیے نئے قوانین بھی بنانے چاہیں۔
چوتھا، اگر کسی بھی متاثرہ ملک کی غیر ملکی آف شورکمپنی کی تحقیقات ہو رہی ہےتو پھر برطانیہ یا وہ ملک جہاں یہ کمپنی موجود ہے،اس آف شور کمپنی کی اونر شپ کو ظاہر کر دے۔
اب بین الاقوامی ادارے بھی اس پر بات کر رہے ہیں ۔برطانیہ نے کچھ نئے قوانیں بنائے ہیں کچھ اور ملک اس بارے میں سوچ رہے ہیں پر ابھی بھی وہ ان پیسوں کو بچانا چاہتے ہیں۔ اگر یہ دباؤ بڑھتا جائے ، کمزور اور غریب ملک مل کر آواز اُٹھائیں کے ہمارا پیسہ واپس کرو تو شائد اُن کا پیسہ واپس آ جائے۔لیکن اس کے لیے ہم آواز ہونے اور بین الاقوامی انصاف کی ضرورت ہے۔
ہمیں اب اس مسلہ کے حل کی طرف آنا چاہیے۔سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ برطانیہ کرپٹ سیاستدانوں کی دولت کی حفاظت کرتا ہےاور بدلے میں ان ممالک کے اندرونی معاملات کو کنٹرول کرتا ہے۔دوسرا برطانیہ غریب ملک کے پیسے پر موج کر رہا ہےاگر تمام غریب ملک اپنا پیسہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں تو برطانیہ دھرم سے نیچے آجائے گا۔
برطانیہ پاکستان سے لوٹا گیا پیسہ اپنے بنکوں میں ڈال رہا ہے اور جس کی قیمت پاکستانی عوام ترقی میں رکاوٹ کی صورت میں برداشت کر رہا ہے۔برطانیہ اور امریکہ اب اس بات کو سمجھیں غریب ملک کی عوام اپنی غربت،پریشانیاں اور پسماندگی کے لیےنہ صرف اپنے نااہل اور کراپٹ حکمرانوں کو ذمےدار سمجھتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ان ممالک کو بھی ذمے دار سمجھنے لگ گے ہیں جہاں پر یہ پیسہ لے جا کر چھپایا جا رہا ہے۔ جتنا جلدی یہ ممالک اس بات کو سمجھیں گے یہ ان کے لیے بھی اچھا ہو گا اور غریب ممالک کے لیے بھی بہتر ہو گا ورنہ غربت بڑھتی چلی جائے گی اور دنیا نئی لڑائیوں کی طرف دھکیلی جائے گی۔
@iamAsadLal
twitter.com/iamAsadLal