اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 میں ایک فلیٹ سے معروف ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش برآمد ہونے کے واقعے کی تحقیقات کا عمل جاری ہے، وہ گزشتہ 7 سال سے اس کرائے کے فلیٹ میں مقیم تھیں ایس ایس پی ساؤتھ نے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس پی کلفٹن کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا اداکارہ کی موت طبعی تھی، حادثاتی، خود کشی کا نتیجہ تھی یا یہ کوئی قتل کا واقعہ ہے کمیٹی شواہد جمع کرکے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہےتحقیقاتی ٹیم میں ایس ڈی پی او ڈیفنس، اے ایس پی ندا جنید، ایس ایچ او گزری فاروق سنجرانی، سب انسپکٹر محمد امجد اور آئی ٹی برانچ سے پولیس کانسٹیبل محمد عدیل شامل ہیں،ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر حکام کو تفتیش سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کرے۔
پاکستان میں 2025 اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے،آئی ایم ایف
ذرائع کے مطابق، پولیس نے حمیرا اصغر کے زیر استعمال تین موبائل فون، ایک لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ کا ڈیٹا حاصل کرلیا ہے جنہیں تفتیش کے لیے کھول دیا گیا ہے،تحقیقاتی ٹیم نے اب تک دو افراد کے بیانات قلمبند کرلیے گئے ہیں، جبکہ مزید دو افراد کو طلب کیا گیا ہےپولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تمام شواہد کا مکمل تجزیہ ضروری ہے۔
تاجک سوشل میڈیا اسٹار کی چوری کے الزام میں دبئی ائیرپورٹ پر گرفتاری و رہائی