اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینٹرل سیکریٹریٹ کو فوری طور پر کھولنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سنایا گیا، جس میں پارٹی نے اپنے دفتر کو ڈی سیل کرنے کی استدعا کی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کا پی ٹی آئی آفس سیل کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا۔ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، جو اپنے مرکزی دفتر کی بندش کے خلاف لڑ رہی تھی۔تاہم، عدالت نے پی ٹی آئی کو کچھ شرائط پر عمل کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ فیصلے کے مطابق، پی ٹی آئی کو سی ڈی اے (کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کے ساتھ مل کر دس قسم کے حفاظتی انتظامات کرنے ہوں گے۔ ان میں سب سے اہم آگ سے بچاؤ کے اقدامات شامل ہیں۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ پی ٹی آئی کو ہر منزل پر آگ بجھانے کے آلات نصب کرنے ہوں گے۔ اس کے علاوہ، عمارت کی چھت پر ایک فائر پمپ اور الگ سے پانی کا ٹینک بھی لگانا ہوگا۔ ایک مینول الارم سسٹم بھی نصب کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متنبہ کیا جا سکے۔عدالت نے کچن کی حفاظت پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ حکم کے مطابق، کچن میں گیس ڈیٹیکٹر لگانا ہوگا تاکہ گیس لیک ہونے کی صورت میں فوری طور پر پتہ چل سکے۔ ساتھ ہی، ایمرجنسی نمبرز بھی واضح طور پر ظاہر کرنے ہوں گے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری مدد حاصل کی جا سکے۔بجلی کے نظام کو بھی محفوظ بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو پوری عمارت میں بجلی کی باقاعدہ اور محفوظ وائرنگ کروانی ہوگی۔یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے ایک راحت کا باعث ہے، لیکن ساتھ ہی یہ ان کی ذمہ داری بھی بڑھاتا ہے۔ پارٹی کو اب یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ عدالت کی دی گئی تمام ہدایات پر عمل کرے تاکہ ان کا مرکزی دفتر نہ صرف کھلا رہے بلکہ محفوظ بھی ہو۔

Shares: