تعلیم کی اہمیت ازل سے ابد تک رہے گی خواہ وہ مذہبی نوعیت کی یا دنیاوی نوعیت کی,ہمیشہ معاشرے کی فلاح و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے.تعلیم کی بدولت ہی معاشرے سے جہالت کا خاتمہ ممکن ہے.تعلیم کو ہمیشہ سے اہم مقام حاصل ہے مگر اسلام نےتعلیم کی اہمیت پر خاص زور دیا ہے.حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیاوی تعلیم سے تو آراستہ نہ تھے مگر وہ اِس کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے.
غزوۂ بدر کے موقع پر قیدیوں کیلئے رکھی گئی شرائط میں سی ایک شرط یہ تھی کہ ایک قیدی جو پڑھنا لکھنا جانتا ہو, وہ دس مسلمانوں کو پڑھنالکھنا سکھائے گا یا فدیہ ادا کرے گا جس سے اسلام میں تعلیم کی اہمیت بخوبی واضح ہوتی ہے.آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کے مطابق” تعلیم حاصل کرو خواہ تمھیں چین ہی کیوں نہ جاناپڑے”.مسلم معاشرے کی ابتدائی ادوار میں تعلیم کی بدولت ہی جابر بن حیان,الخوارزمی, ابن الہیثم جیسےنامور سائنسدان پیدا ہوئے.عباسی خلیفہ بھی تعلیم کاقدردان تھا,اس نے یونانی ادب کا عربی زبان میں ترجمہ کروایا جو بعدازاں بغداد پر تاتاری حملے میں ضائع ہو گیا.
اس درخشاں دور کے بعد جیسے جیسے مسلم معاشرہ علم و فنون سے دور ہوتا گیا, جہالت نے ڈیرے ڈالنا شروع کر دیے.دوسری طرف مغرب نے تعلیم کو اہمیت دینا شروع کی اور ترقی کی منازل طے کیں.اٹھارویں و انیسویں صدی میں اہم ایجادات مغربی سائنسدانوں نے کیں.
مسلم معاشرہ اس قدر ابتری کا شکار ہوا کہ ہمارا موجودہ تعلیمی نظام بھی مغرب کا ہی مرہون منت ہے.اس مغربی نظام تعلیم کے باعث ہم اپنی تہذیب کوبھلا چکے ہیں.نہ صرف دنیاوی تعلیم بلکہ دینی تعلیم میں بھی ہم پیچھے رہ چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ہم پر حکمرانی کیلئے مسلط کیے جاتے ہیں.رٹا سسٹم, نقل کا عام ہونا, ہمارے موجودہ نظام تعلیم کی ابتری کا باعث ہیں.بچوں کی بنیادی تعلیم و تربیت میں اہم کردار والدین ادا کرتے ہیں اور دوسرا
اہم کردار اسکول و اساتذہ کا ہے.
آج کل تعلیم کے نام پر بچوں کو کتابوں سے بھرےوزنی بیگ تھما دیے جاتے ہیں جس سے ایک طرف وہ جسمانی تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں تو دوسری طرف ذہنی تھکاوٹ کا بھی.سارا دن مسلسل پڑھائی سے وہ احساس کمتری کا
شکار ہو جاتے ہیں اور کھیل کود نہ ہونے کی وجہ سے اعتماد کی کمی کا شکار بھی ہوتے ہیں.بچوں کے اس استحصال میں اسکول و والدین برابر کے ذمہ دار ہیں.
بچوں کی تربیت پر غور کرنے کی بجائے صرف رٹے رٹائے جملوں کی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے جس سے بعد میں معاشرے میں ایسا طالبعلم آ موجود ہوتا ہے جو اخلاقیات سے عاری ہوتا ہے, گالم گلوچ اس کے نزدیک برائی نہیں ہوتی, کسی کی حق تلفی کرنا وہ اپنا حق سمجھتا ہے, کسی پر آواز کسنا بھی اسے برا نہیں لگتا, کسی کے بیگ سے چیزیں چرانا اسے معیوب نہیں لگتا.یہ سب افسانوی باتیں نہیں بلکہ حقیقت ہے جس کا مشاہدہ روزانہ کیا جا سکتا ہے.اس کی بنیادی وجہ تربیت کی کمی ہے ورنہ تعلیم کیلئےہزاروں اسکول موجود ہیں.
اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہمیں رٹا سسٹم سے نجات حاصل کرنی ہے اور ایسا تعلیمی نظام رائج کرنے کی کوشش کرنی ہے جو نہ صرف طلباء کو حقیقی تعلیم و تربیت سے روشناس کرے بلکہ انہیں موجودہ دور
سے بھی ہم آہنگ کرنے میں مددگار ہو.موجودہ حکومت کا تمام نصاب کو یکساں کرنے کا قدم قابلِ تحسین ہے اور اگر بنیادی تعلیم کا ذریعہ بچوں کی مادری زبان کااپنایا جائے تو اس سے بھی تعلیم کے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں
تعلیم کی اہمیت
تحریر : وسیم احمد








