مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے حالیہ بیان کو "مثبت پیشرفت” قرار دیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے، سینیٹر سید نے کہا کہ عمران خان کے اس بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اس پر مثبت جواب دینا چاہیے۔انہوں نے تجویز دی کہ اس بیان کے جواب میں سیز فائر کا اعلان کیا جائے، سوشل میڈیا پر منفی مہم کو روکا جائے، اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو بنی گالہ ریسٹ ہاؤس میں منتقل کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔سینیٹر سید مشاہد نے زور دیا کہ ملک کے مفاد میں اداروں کے درمیان تنازعات کو ختم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا مورال تب ہی بلند ہوگا جب عوام اس کے ساتھ ہوں گے، اور یہ کہ عوام اور فوج کے درمیان فاصلے کو بڑھانے سے گریز کرنا چاہیے۔مشاہد حسین سید نے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان مذاکرات ہوجاتے تو ملک میں بحران پیدا نہ ہوتا۔ انہوں نے تاکید کی کہ سیاست میں اپنی غلطیوں سے سیکھنا اہم ہے اور اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی دونوں کو کھلے دل سے آگے بڑھنا چاہیے۔اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے کچھ اہم رہنما موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی راہ کو ترجیح دے رہے ہیں۔

- Home
- پاکستان
- اسلام آباد
- عمران خان کے بیان کو سنجیدگی سے لے کے مثبت جواب دینا چاہیے،سینیٹر مشاہد حسین سید







