fbpx

عمران خان کو کرونا وائرس ریلیف فنڈ کے ایک ایک روپے کا حساب دینا ہوگا،بلاول

عمران خان کو کرونا وائرس ریلیف فنڈ کے ایک ایک روپے کا حساب دینا ہوگا،بلاول
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک بھر میں کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا سے افسوس کا اظہار کیا اور کہا ہک پاکستان پیپلزپارٹی کرونا وائرس کی تیسری لہر کے پھیلاؤ کے کڑے وقت میں ملک بھر کے ہیلتھ ورکرز کے ساتھ کھڑی ہے،پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں کرونا وائرس حکومتی نااہلی کی وجہ سے آج قابو سے باہر ہوچکا ہے، اگر بروقت لاک ڈاؤن کرلیا جاتا تو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو بآسانی روکا جاسکتا تھا، ویکسی نیشن وہ واحد طریقہ ہے کہ جس کو اختیار کرکے کرونا وائرس اور اس کے نتیجے میں لاک ڈاؤن سے ہونے والی معاشی مشکلات سے بچا جاسکتا ہے، عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ کرونا وائرس کو قابو کئے بغیر ملک میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنا ممکن نہیں، عمران خان کو کرونا وائرس ریلیف فنڈ کے ایک ایک روپے کا حساب دینا ہوگا، عمران خان بتائیں کہ کرونا وائرس کی ایس او پیز پر عمل درآمد کیلئے جو ٹائیگر فورس بنائی تھی، کیا وہ ناکام ہوگئی؟

بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ کورونا کی تیسری لہر وائرس کی وہ برطانوی قسم ہے جو حکومتی نااہلی کی وجہ سے ائیرپورٹس پر کڑی نگرانی نہ ہونے کے سبب ملک میں آئی، عمران خان نے کرونا وائرس کا شکار ہونے کے باوجود قرنطنیہ میں پانچ رکنی اجلاس کی سربراہی کی،جس ملک کا وزیراعظم کرونا وائرس کا شکار ہوکر احتیاط نہ کرے، اس ملک میں عام آدمی کیسے ایس او پیز کا خیال کرے گا، نااہل، نالائق اور سلیکٹڈ حکمران کی غلط حکمت عملی کے سبب کرونا وائرس کی تیسری لہر ملک میں قابو سے باہر ہورہی ہے،پی ٹی آئی حکومت کی کرونا سے بچاؤ کی مؤثر آگاہی مہم نہ چلانے کی وجہ سے ملک میں ایس او پیز پر رضاکارانہ عمل کا رجحان تقریبا ختم ہوچکا ہے، دنیا کرونا ویکسین لگا کر وبا سے باہر نکل رہی ہے اور بدقسمتی سے ملک میں ویکسین نہ ہونے کے برابر ہے،اگر موجودہ رفتار سے کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جاتی رہی تو پاکستان میں تین سے زائد سالوں میں صرف 20 فیصد آبادی کو ویکسین لگ سکے گی حکومت اگر چاہتی تو بروقت بڑے پیمانے پر کرونا ویکسین خرید سکتی تھی مگر عمران خان کی کوشش مفت امدادی ویکسین کا حصول رہی، چین اگر ویکسین عطیہ نہیں کرتا تو پاکستان میں فوری طور پر فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ڈوز فراہم کرنے کا سلسلہ نہ شروع ہوپاتا، پی ٹی آئی حکومت کی کرونا ویکسین کی بروقت بڑے پیمانے پر خریداری میں مکمل ناکامی کا خمیازہ پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں، دنیا میں چند سو روپوں کی کورونا ویکیسن کی ایک خوراک کی قیمت پاکستان میں ہزاروں روپے میں ہے،کرونا وائرس کی ویکسین مفت یا کم از کم عالمی منڈی کی اصل قیمت کے مطابق ملنا عوام کا بنیادی حق ہے،پنجاب کی وزیرصحت کے بیان کہ لوگ ویکسین اپنی ذمہ داری پر لگوائیں، ہم ذمہ دار نہیں، سے عوام میں ویکسین سے متعلق خوف اور شک پیدا ہوگیا،وفاقی حکومت کرونا وائرس کے حوالے سے اب تک ملک میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے قابل ذکر اقدامات نہیں کرسکی ہے، پاکستان کے دیگر صوبوں کو سندھ حکومت کی طرز پر کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات کرنا ہوں گے،

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سندھ میں ہر 10 لاکھ میں سے 73 ہزار 337 افراد کے کرونا ٹیسٹ ہوئے جبکہ پنجاب میں ہر 10 لاکھ میں سے 40 ہزار 35 افراد کے کرونا ٹیسٹ ہوئے، سندھ حکومت محدود وسائل اور اختیارات کے باوجود صوبے کے عوام کو کرونا سے بچانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی،پاکستان پیپلزپارٹی کرونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی پر حکومت کی نااہلی کو ہر فورم پر بے نقاب کرتی رہے گی،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.