اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل حکام کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے جیل میں دو دن 45، 45 منٹ کی ملاقاتیں کرانے کا شیڈول پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر ، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقاتوں کی 30 درخواستوں کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا،عدالت نے فیصلے میں لکھا سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا شیڈول انٹراکورٹ اپیل میں طے پایا تھا جسے جیل اتھارٹیز نے خود سے تبدیل کر دیا، ملاقات کرنے والوں کے نام بھجوانے کے لیے کمیٹی بنائی گئی تھی، جیل حکام کمیٹی کی جانب سے بھجوائے گئے ناموں کو بھی ملاقات کے لیے زیر غور نہیں لا رہے۔عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کے نام سلمان اکرم راجہ، بیرسٹر گوہر اور انتظار پنجوتھہ پر مشتمل کمیٹی بھجواتی ہے جسے بانی پی ٹی آئی نے تشکیل دیا ہے، جیل سپریٹنڈنٹ کے وکیل نوید ملک ایڈوکیٹ نے کہا کہ سکیورٹی تھریٹس کی وجہ سے ملاقاتوں کے شیڈول میں معمولی تبدیلی کی گئی، وکلا اور فیملی ممبرز کی ملاقاتیں پہلے الگ الگ دن کرائی جاتی تھیں لیکن اب ایک ہی دن وقفے کے ساتھ کرائی جا رہی ہیں۔ دوستوں سے ملاقات کی سہولت کو جیل میں ملاقات کے فوری بعد سیاسی بیان بازی کے ذریعے غلط استعمال کیا جا رہا تھا، ایسی صورتحال میں سپرنٹنڈنٹ جیل کے پاس اختیار ہے کہ وہ یہ سہولت واپس لے لے، جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو جیل میں سہولیات کی فراہمی اور جیل میں ملاقاتیں کرنے کے لیے 101 درخواستیں دائر کی گئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیل رولز کے مطابق قیدیوں کو ملاقات کے دوران سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں لیکن ملاقاتی جیل سے نکلنے کے بعد الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرتے اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال دلانے والی تضحیک آمیز گفتگو میں بے بنیاد الزام تراشیاں کرتے ہیں، جیل ٹرائل کے دوران وکلا اور پراسیکیوٹرز کو بلا رکاوٹ داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سلمان اکرم راجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملاقات کرنے والوں کی جانب سے جیل کے باہر کوئی میڈیا ٹاک نہیں کی جائے گی،عدالت کے سامنے موجود فریقین میں سے کسی نے بھی اس بینچ کے سامنے سماعت پر اعتراض نہیں اٹھایا، فریقین کی رضامندی سے تمام پٹیشنز نمٹائی جا رہی ہیں لہٰذا توہین عدالت کی کارروائی بھی ختم کی جا رہی ہے اور آئندہ اس متعلق درخواستیں اسی بینچ کے سامنے مقرر کی جائیں گی،ہم مناسب نہیں سمجھتے کہ بانی پی ٹی آئی سے منگل اور جمعرات کو ملاقاتوں کے لیے پہلے سے طے شدہ میکنزم میں مداخلت کی جائے لہٰذا جیل سپرنٹنڈنٹ دو دن ملاقات کرانے کے شیڈول پر سختی سے عمل کریں۔