باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک خبر یقیناً آپکی نظر سے گزری ہو گی کہ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز کا ہاٹ لائن پر رابطہ قائم ہوا ۔ جس میں دونوں ڈی جی ایم اوز نے کنٹرول لائن اور دوسرے تمام سیکٹروں میں صورتحال کا کھلے، بے تکلفانہ اور خوشگوار ماحول میں جائزہ لیا ہے ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب کنٹرول لائن اور تمام سیکٹروں میں معاہدوں، مفاہمت اور جنگ بندی کی سختی سے پاسداری کی جائے گی۔ یہ بھی طے پایا کہ کسی بھی غلط فہمی یا واقعہ کو حل کرنے کیلئے ہاٹ لائن اور فلیگ سٹاف میٹنگ کے طریقہ کار سے استفادہ کیا جائے گا۔ ۔ اس حوالے سے میں آپکو بتاوں 2003کے سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرنےکا شروع دن سے پاکستان کا موقف ہے ۔ جو بھارت کی جانب سے اب دوبارہ مان لیا گیا ہے ۔ ۔ ان اقدامات کے مثبت نتائج پر کوئی دورائے نہیں ہے ۔ ہر کوئی خطے میں امن کا خواہشمند ہے۔ اور امن کے لیے پہلا قدم یہی ہے کہ سیز فائر کو برقرار رکھا جائے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پر اس سب پر دنیا بھی حیران ہے کیونکہ یہ وہ ہی بھارت ہے۔۔۔۔ جہاں سے تو ہمیشہ سرجیکل سٹرائیکس کا شور سامنے آیا کرتا تھا ۔ مودی ، اجیت ڈول ، راج ناتھ سنگھ اور امیت شاہ شاید ہی کوئی دن گزرتا ہو کہ وہ پاکستان کے خلاف سازشیں اور بات نہ کرتے ہوں ۔ حالانکہ پہلے تو خبریں ہی یہ آرہی تھیں اور چل رہی تھیں کہ بھارت کسی بھی وقت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر حملہ کر سکتا ہے ۔ اس نے اسکی پوری پلاننگ بھی کرلی ہوئی تھی ۔ تو یک دم کیا ہوا ہے کہ بھارت ایل او سی پر سیز فائر کرنے کے ساتھ ساتھ بات چیت پر بھی راضی ہو چکا ہے ۔ انتہائی اچھا بچہ بن گیا ہے ۔ اسی لیے ہر کوئی اس تلاش میں ہے کہ کس نے کیا پریشر بھارت اور مودی پرڈالا ہے کہ وہ چپ کرکے بیٹھ گیا ہے ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس پر بھارتی دفاعی تجزیہ کار اور بھارتی صحافی خوب شور بھی مچا رہے ہیں اور رو بھی رہے ہیں کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ مودی کے بارے منموہن سنگھ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ مودی بھارت کے لیے
disasterہوگا ۔ دراصل بھارتیوں نے خود ماننا شروع کر دیا ہے کہ چین کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اور چین نے جو لداخ والی چال چلی تھی اب اس معاملے سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ بھارت کے جو سمجھ بوجھ اور جرت رکھنے والے صحافی ہیں وہ اپنی ٹویٹس کے ذریعے بتا رہے ہیں کہ لداخ والے معاملے میں جہاں چین نے بھارت کو مجبور کیا ہے کہ بھارت 1959کی لائن کو قبول کرے ۔ ساتھ ہی سرحدی تنازعہ کو تعلقات سے الگ کرے گا – اور
wuhan agreement پر واپس جائے ۔ نئے معاہدے میں سی پیک کے حوالے سے بھی بھارت سے assurityلی گئی ہے کہ آپ اب مزید پاکستان کو انگلی نہیں کریں گے ۔ ساتھ ہی بھارت پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نارمل کرے گا ۔
اور انکے مطابق یہ سب کچھ چین بھارت سے ڈنڈے کے زور پر کروا رہا ہے۔ کیونکہ بھارت ذرا بھی پیچھے ہٹا یا شرارت کرنے کی کوشش کی تو اسکی مزید ٹھکائی کا امکان ہے ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں آپکو بتاوں کہ سچ بھی یہ ہی ہے ۔ آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ مودی کی چھاتی مزید سکڑتی جائے گی اور عقل بھی ٹھکانے لگ جائے گی ۔ دراصل چین نے اب بتانا شروع کر دیا ہے کہ اس خطے کا boss کون ہے ۔ ساتھ ہی چائنہ امریکہ کو بھی پیغام دے رہا ہے کہ تم جس بھارت کے دم پر چین کو رام کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے ۔ اس کو ہم نے گردن سے دبوچا ہوا ہے ۔ یہ بھی امریکہ کو دیکھا دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ جس بھارت کو تم اس علاقے کا تھانیدار بنانے کے چکروں میں تھے ہم نے اس کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھے اور معاملات حل کرے ۔ ۔ کیونکہ آپ دیکھیں جب سے مودی نے آرٹیکل 370
ختم کیا ہے ۔۔۔ بھارت میں لوگ کہہ رہے تھے کہ آج کے بعد ہم کو پاکستان سے بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ بات ہو گی تو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر ہوگی ۔ کشمیر ہمارا ہے اور پتہ نہیں کیا کیا دعوے کیے جاتے تھے ۔ یہاں تک کہ مودی اور بھارت کے غبارے میں اتنی ہوا بھر چکی تھی کہ بتایا جاتا تھا کہ ہم صبح کو جائیں گے اور شام کو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ہمارا ہوگا ۔ پھر ہم نے دیکھا کہ لداخ میں چین سامنے آیا تو مودی اور بھارتیوں کے ہوش ٹھکانے آگئے ۔ اور دن میں تارے دیکھائی دینے لگے ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب آپ دیکھیں سب کچھ ریورس ہونے جا رہا ہے ۔ کہاں بھارتی جرنیل two front war کی بڑھکیں مارا کرتے تھے کہ ہم تیار ہیں اور اب بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں ۔۔ چائنہ پوری طرح سے پاکستان کو بھی گائیڈ کررہا ہے اور بتا رہا ہے کہ آپ نے کیا پوزیشن لینی ہے ۔ کیا چال چلنی ہے اور کیسے بھارت کو engageکرنا ہے ۔ کیونکہ PLA بھارت کے سر پر چڑھ کر بیٹھا ہوا ہے ۔ اب بھارتی تلما رہے ہیں کہ مودی تو بتایا کرتا تھا کہ کشمیر کا معاملہ حل کر لیا ہے ۔ تو اب کیوں پاکستان سے بات چیت کی جا رہی ہے ۔ اس وقت بھارت میں ایک طوفان برپا ہے۔ کہ ہم نے تو رافیل بھی خرید لیے ہیں ۔ ہم نے تو یہ بھی لے لیا ہے اور ایسا بھی کر لیا ہے ۔ پھر کیوں بھارت اپنے موقف سے پیچھے ہٹ رہا ہے اور چوں چاں کیے اور حیلے بہانے کیے بات چیت شروع کر رہا ہے ۔ اب بھارتی یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ مودی نے ہماری ناک کٹوا دی ہے ۔ مودی نے ہماری عزت خراب کروا دی ہے ۔ ہماری بینڈ بجوا دی ہے ۔ ہم نے تو اس خطے کا ۔۔۔ دادا ۔۔۔ بنانا تھا ۔ ہم نے تو leadکرنا تھا ۔ مگر مودی نے ہم کو کہیں کا نہ چھوڑا ہے shinning indiaکو loosing indiaبنادیا ہے ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب جو مودی میڈیا ہے اس جانب سے بھارتیوں کو گمراہ کرنے کے لیے یہ پراپیگنڈہ بھی کیا جا رہا ہے کہ کئی مہینوں تک اجیت ڈول اور معید یوسف کے بیک چینل مذاکرات ہوتے رہے ہیں ۔ جس کو معید تو اپنے ٹویٹس میں رد کرچکے ہیں ۔ ساتھ ہی بھارتیوں کو مودی میڈیا کی جانب سے بھی بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان بھارت سے امن مذاکرات کرے گا مگر مسئلہ کشمیر ڈسکس نہیں کیا جائے گا ۔ آپ خود سوچیں یہ کیسے ممکن ہے ۔ پاکستان یہ نہ کرے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل مسئلہ ہی یہ ہے ۔ یہاں تک کہ تازہ مثال میں آپکو دے دیتا ہوں ۔ اگر تو یہ ہی بیک چینل مذاکرات کا نتیجہ ہے اور جاری ہیں تو پھر دو روز قبل عمران خان کو سری لنکا میں کھڑے ہو کر بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بیان دینے کی کیا ضرورت تھی ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں آپکو بتاؤں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بھارت ذرا سا بھی اب آگے پیچھے ہوا تو چین بھارت کو تگنی کا ناچ نچا دے گا ۔ کیونکہ لداخ جیسا فرنٹ دوبارہ کھولنا چین کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ لداخ سے بھی بڑھ کر بھارت کی chicken neck چین کے ہاتھ میں ہے اور وہ اسکو کسی بھی وقت دبوچ سکتا ہے ۔ فی الحال بھارت کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ خلوص نیت کیساتھ اس سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرے ۔ بھارت سرکار کو اپنی کشمیر پالیسی پر بھی نظر ثانی کرنا ہو گی۔ ۔ یہاں یہ بتا دوں کہ اب بھارت کسی کے زعم یا ہلا شیری پر پیچھے ہٹا تو اس بار یقیناًبھارت کو two front war کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے ۔

Shares: