بھارت کے علاقے پہلگام میں حالیہ فالس فلیگ آپریشن کے بعد پورے ملک میں مودی حکومت، بی جے پی اور اس کی انتہا پسند پالیسیوں کے خلاف آوازیں تیزی سے بلند ہو رہی ہیں۔ واقعے کے بعد بھارتی عوام، سوشل میڈیا صارفین، سیاسی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ذرائع کے مطابق پہلگام واقعے کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم تیز کر دی ہے۔ متعدد رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ یہ مہم ایک منصوبہ بند سازش کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے شروع کی گئی ہے تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو میں ایک بھارتی شہری نے سوال اٹھایا:”پہلگام حملے کے وقت حملہ آور آتے ہیں اور مار کے چلے جاتے ہیں، کہاں گئی آپ کی انٹیلیجنس؟”
اسی تناظر میں کئی شہریوں نے مودی سرکار سے پوچھا کہ ایسے حملے صرف الیکشن کے قریب ہی کیوں ہوتے ہیں۔ ایک شہری کا کہنا تھا:”جب پلوامہ میں فالس فلیگ ہوا تو لوک سبھا کے انتخابات تھے، اور اب پہلگام واقعہ بہار میں الیکشن کے وقت کیوں پیش آیا؟ کیا یہ سب کچھ محض اتفاق ہے؟”
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور نریندر مودی ایک مخصوص نظریے، ہندوتوا، کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کر کے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق:”انتہا پسند بی جے پی صرف کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کو بدنام کرنے اور اپنے کرتوت چھپانے کے لیے مسجد اور مسلمان کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد جو شواہد سامنے آئے ہیں، وہ اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ یہ کارروائی کسی بیرونی دشمن نے نہیں بلکہ اندرون ملک ایک سیاسی منصوبہ بندی کا حصہ تھی۔
بھارت کے مختلف شہروں میں عوامی احتجاج، سوشل میڈیا پر ٹرینڈز اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سوالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام اب حکومتی بیانیے کو آنکھ بند کر کے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ایک شہری نے کہا:”مودی حکومت ہر بار الیکشن سے پہلے دہشت گردی کے ڈرامے رچا کر عوامی ہمدردی حاصل کرنا چاہتی ہے، مگر اب لوگ جاگ چکے ہیں۔”







