پہلگام ڈرامہ کے بعد بھارت نے فوری الزام پاکستان پر لگا دیا، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے سمیت کئی اقدامات اٹھائے،پاکستان نے بھی جوابی وار کیا، تاہم اسکے باوجود بھارتی وزیراعظم مودی، راجناتھ سنگھ اور بھارتی عسکری قیادت سر جوڑ کر بیٹھی ہے کہ پہلگام ڈرامہ کے بعد دی جانے والی دھمکیوں کے بعد اب کیا کیا جائے، راجناتھ سنگھ کی جہاں مودی سے ملاقاتیں ہوئیں وہیں بھارتی عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، ان ملاقاتوں کے بعد بھارتی فوج کی جنگی تیاریوں کے حوالے سے ایک خفیہ داخلی جائزہ رپورٹ لیک ہو گئی ہے جس نے بھارت کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کی موجودہ حالت نہ صرف کسی بڑی جنگ کے لیے ناکافی ہے بلکہ فوجی قیادت کو خدشہ ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی کارروائی کا دائرہ محدود جھڑپوں سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ذرائع کے مطابق، انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف (IDS HQ) نے حالیہ جائزے میں اعتراف کیا ہے کہ فوج کی عمومی تیاری خطرناک حد تک ناکافی ہے اور کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں بھارت کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز کا حوصلہ بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔بھارتی سپاہیوں اور افسران میں بددلی اور بداعتمادی بڑھ رہی ہے۔صیہونی ماہرین کی ایک بڑی تعداد بھارتی عسکری نظام میں سرگرم عمل ہے ،متعدد سپاہی اور افسران اپنی ملازمتیں چھوڑ رہے ہیں یا جنگی ذمہ داریوں سے کترا رہے ہیں۔رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اسرائیلی دفاعی کمپنیاں اور مشیر، بھارتی افواج کی جدید کاری اور آپریشنل تیاری کے عمل میں براہِ راست شامل ہیں، لیکن اس شمولیت کے باوجود عملی صورتِ حال میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق، بیرونی اثرورسوخ نے فوج میں اندرونی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اندرونی رپورٹ میں بعض اہم مسائل اسلحے اور گولہ بارود کی کمی،جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں ناکامی،قیادت میں فیصلہ سازی کی سست روی،فرنٹ لائن پر تعینات دستوں کو مناسب سہولتوں کی عدم فراہمی جیسے مسائل کو نمایاں کیا ہے
بھارتی فوج کے اندر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) اور لائن آف کنٹرول (LoC) پر موجود افواج میں بے چینی بڑھ رہی ہے، اور حکام شدید دباؤ میں ہیں کہ اگر کسی قسم کی بڑی فوجی کارروائی کی نوبت آتی ہے تو وہ شاید اس کا مؤثر جواب نہ دے سکیں۔سیاسی حلقوں میں بھی اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف (آئی ڈی ایس) کی جانب سے تیار کردہ ایک انتہائی خفیہ رپورٹ میں بھارتی دفاعی نظام میں موجود سنگین خامیوں اور آپریشنل تیاری کے حوالے سے تشویشناک انکشافات کیے گئے ہیں۔ 26 اپریل 2025 کی اس رپورٹ میں پاکستان، آزاد کشمیر اور افغانستان کی صورتحال کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے، جس میں انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ (ڈی آئی اے) سے حاصل کردہ معلومات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ موجودہ بحرانی صورتحال کو قومی مقاصد کے حصول کے لیے صرف ٹیکٹیکل سطح تک محدود رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ tactical سطح سے کسی بھی قسم کی پیش قدمی دشمن کو صورتحال پر حاوی ہونے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارتی فضائیہ کے سکواڈرن کی تعداد، فوج کے ٹینکوں کی مرمت و اپ گریڈیشن اور بحریہ کے آبدوز بیڑے کی تیاری میں اہم خلاء موجود ہیں۔ کسی بھی آپریشنل یا اسٹریٹجک پیش قدمی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ حال ہی میں پیش آنے والے واقعات، جیسے کہ آئی این ایس وکرانت کی واپسی، آئی اے ایف کی جانب سے ایندھن کے ٹینک کا گر جانا اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر دشمن کی مقامی فائر سپیریورٹی حاصل کرنے کی صلاحیت، اس مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دشمن اپنی عددی برتری کے زعم میں ایک وسیع تر تنازعہ بھڑکانے کے درپے ہے اور ان کا خیال ہے کہ وہ اپنی قوت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر صورتحال tactical سطح سے آگے بڑھی تو شمالی کمانڈ اور مغربی کمانڈ کے علاقوں میں سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں تینوں مسلح افواج، خاص طور پر فوج میں غیر معمولی حد تک فرار کی اطلاعات دی گئی ہیں۔ حال ہی میں طاقت کے مظاہرے کے شرمناک واقعات کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ چھٹیوں پر گئے ہوئے افسران اور جوان واپس آنے سے انکار کر رہے ہیں اور اسٹیشن پر موجود اہلکار طبی بنیادوں پر چھٹی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فوجیوں کو حالیہ حملے کے بارے میں تیار کردہ بیانیے پر یقین نہیں ہے اور انہوں نے پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے خلاف فضائی تحفظ فراہم کرنے کی آئی اے ایف کی صلاحیت پر اعتماد کھو دیا ہے۔ اہم اثاثوں کو چلانے کے لیے اسرائیلی فوجیوں کی تعیناتی سے بھی حوصلے پست ہو رہے ہیں، کیونکہ بھارتی فوجی اپنی صلاحیتوں پر عدم اعتماد محسوس کر رہے ہیں۔ پہلگام واقعے کے بیانیے میں تضادات اور دشمن کی نفسیاتی جنگ کو رائج فوجی قوانین کے مطابق ان غیر متوقع مسائل سے نمٹنے کی کسی بھی کوشش سے پہلے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں بجلی کے گرڈ، صنعتی مراکز، لاجسٹک نوڈس اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو دشمن کی فضائیہ سے خطرہ لاحق بتایا گیا ہے، جس کی وجہ آئی اے ایف کی آپریشنل صلاحیتوں میں کمی ہے۔ زمینی بنیادوں پر غیر فعال فضائی دفاعی نظام پر انحصار فعال فضائی دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد پیدا نہیں کرتا اور بیشتر سیکٹرز، خاص طور پر دفاعی شعبے کے سرکاری ادارے (DPSUs)، اپنی premises پر فضائی دفاعی میزائل بیٹریوں (AD SAM Btys) اور فوری ردعمل ٹیموں (QRTs) کی تعیناتی کی درخواست کر رہے ہیں۔ کسی بھی بے قابو پیش قدمی سے بھارتی معیشت کو 50 سال پیچھے دھکیلا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خود انحصاری کے اقدامات اور اس پر خرچ کیے جانے والے فنڈز کے باوجود، مسلح افواج اب بھی غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کرتی ہیں اور ابھی تک بہت سے آرڈرز کی تکمیل ہونا باقی ہے۔ ملکی دفاعی مینوفیکچررز ابھی تک انتہائی بنیادی ساز و سامان سے آگے مطلوبہ ٹیکنالوجیز کو مقامی سطح پر تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ دشمن کی جانب سے بحریہ کی تنصیبات پر کسی بھی بڑے حملے کے نتیجے میں بحری ناکہ بندی ہو سکتی ہے اور جنگی ساز و سامان کی لاجسٹکس پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔رپورٹ میں مزید مدد کے لیے کیپٹن (آئی این) آر کے سنگھ، ڈائریکٹر (این اے) سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جن کے رابطہ کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ کی نقول چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) سیکرٹریٹ، آئی ایچ کیو آف ایم او ڈی (آرمی، ایئرفورس، نیوی) اور ہیڈ کوارٹرز اسٹریٹجک فورس کمانڈ (ایچ کیو ایس ایف سی) کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔