پاکستان کے محض چند گھنٹوں پر محیط آپریشن "بنیان مرصوص” نے نہ صرف بھارتی عسکری اداروں کی دفاعی حکمت عملی کو چیلنج کر دیا بلکہ آر ایس ایس کے پھیلائے ہوئے ہندوتوا کے مصنوعی بیانیے کو بھی زبردست دھچکہ پہنچایا ہے۔ انڈیا میں بیٹھ کر جب اس صورتحال کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوتوا کا بت ٹوٹ کر بکھر چکا ہے، جیسے دیوالی کی شب راون کے پتلے کے ٹکڑے ہوا میں اڑائے جاتے ہیں۔

پاکستان پر غصہ نکالنے میں ناکام ہندوتوا کے حامی اب خود بھارت کے اندر تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سینئر وزیر نے نہایت اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے بھارتی فوج کی ترجمان اور قومی ہیرو کرنل صوفیہ قریشی کو "دہشت گردوں کی بہن” قرار دے ڈالا۔بی جے پی کے قبائلی امور کے وزیر کنور وجے شاہ نے مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، صوفیہ قریشی کے خلاف ناقابلِ یقین حد تک نفرت انگیز تبصرہ کیا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے خود انہی کی بہن کو بھیجا — اشارہ کرنل صوفیہ قریشی کی جانب تھا۔ان کے الفاظ تھے،”جنہوں نے ہماری بیٹیوں کو بیوہ کیا، ہم نے ان ہی کی بہن کو علاج کے لیے بھیجا۔”انہوں نے مزید زہر افشانی کرتے ہوئے کہا”انہوں نے ہمارے ہندوؤں کو برہنہ کیا اور قتل کر دیا، مودی جی نے ان ہی کی بہن صوفیہ قریشی کو ان کے خلاف بھیجا کہ وہ انہیں مارے اور برہنہ کرے۔”

یہ بیان صرف نفرت انگیز نہیں بلکہ قومی سلامتی، فوجی عزت و تکریم اور خواتین کے وقار کے خلاف بھی سنگین حملہ ہے۔

کرنل صوفیہ قریشی، جو بھارتی فوج کی چند نمایاں خواتین افسران میں شامل ہیں، اس وقت قومی ہیرو قرار پائی تھیں جب انہوں نے پاکستان میں 6 اور 7 مئی کی شب کیے گئے حملوں کو بنیاد بنا کر "آپریشن سیندور” کی کہانی گھڑی۔ مگر صرف چند دن بعد جب پاکستان کی جوابی کارروائی نے انڈین آرمی اور ایئرفورس کے دانت کھٹے کر دیے، تو ہندوتوا کے ترجمانوں نے اسی خاتون کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا شروع کر دیا۔بی جے پی وزیر کے اس بیان پر بھارت بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن جماعت آل انڈیا کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ میں کہا "ہماری فوج کی بہادر بیٹیاں دہشت گردوں کی بہنیں ہیں ، یہ نفرت انگیز بیان مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ نے دیا ہے۔ یہ شرمناک بیان ہندوستان کی ان بیٹیوں کے بارے میں دیا گیا ہے، جن کا ہر کوئی احترام کرتا ہے۔ یہ ہماری طاقتور فوج کی توہین ہے۔”

کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی قیادت سے سوال کیا کہ”کیا وزیر وجے شاہ استعفیٰ دیں گے؟ کیا مودی جی اور بی جے پی اس شرمناک اور تنگ نظر بیان پر معافی مانگیں گے؟”

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا ہندوتوا بیانیہ، جو عرصہ دراز سے مسلمانوں، پاکستان اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت کو سیاسی طاقت میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، اب خود اپنے ہی وزن سے گر رہا ہے۔ جب "قوم پرستی” کے نام پر اپنی ہی فوج، اپنی ہی بیٹیوں کو ٹیررسٹ کہا جائے، تو یہ کسی دشمن کی نہیں بلکہ نظریاتی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔پاکستان کے خلاف نفرت اب اندرونی خلفشار بن چکی ہے، اور یہ ہندوتوا کے اس غبارے کو پھاڑ رہی ہے جو مصنوعی حب الوطنی سے پھلایا گیا تھا۔

اگر بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس وقت خود احتسابی کا راستہ نہ اپنایا تو ہندوتوا کا یہ جنون نہ صرف بھارت کے سیکولر تانے بانے کو چاک کر دے گا بلکہ فوج جیسے اہم قومی ادارے کو بھی سیاست کا ایندھن بنا دے گا۔

Shares: