بھارت کا غیر سفید باسمتی چاول کی برآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ ممکنہ طور پر عالمی غذائی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ پابندی چاول کی گھریلو قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو کم کرنے کے لیے لگائی گئی تھی، شدید بارشوں سے فصلوں کو نقصان پہنچا اس اقدام سے بھارت سے چاول کی برآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ کم ہو جائے گا، جو عام طور پر عالمی اناج کی تجارت کا 40 فیصد ہوتا ہے۔
بھارتی چاول کے اہم خریدار نائجیریا، چین اور فلپائن ہیں. جبکہ دیگر ممالک ضرورت پڑنے پر اپنی گھریلو پیداوار کو پورا کرنے کے لیے بھارتی چاول کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہرین کے تجزیے کے مطابق، پابندی کے نفاذ کے ساتھ، اناج کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
صورتحال اس وجہ سے ابتر ہے کہ نئی فصل مزید تین ماہ تک دستیاب نہیں ہوگی۔ پاکستان جو چاول کا ایک اور بڑا برآمد کنندہ ہے میں بارشیں اور سیلاب ہے، بھارت میں بھی مون سون کی بارشیں، چاول کی پیداوار کے لیے اضافی مشکلات کا باعث ہیں۔ بھارت، دنیا کے دوسرے سب سے بڑے چاول پیدا کرنے والے ملک ہونے کی حیثیت سے، اس بات کا خدشہ ہے کہ غیر معمولی بارشیں چاول کی فصلوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے،
مزید یہ کہ درآمد کنندگان کو کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے پہلے ہی زیادہ اخراجات کا سامنا ہے۔ بھارتی چاول کی برآمدات پر پابندی سے سپلائی کرنے والے ممالک پر اس نازک دور میں چاول کی مانگ پوری کرنے کے لیے مزید دباؤ بڑھ جاتا ہے۔اس پابندی کا وقت خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ بھارت آنے والے مہینوں میں اہم ریاستی انتخابات، اور اگلے سال عام انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ مودی کی زیر قیادت ہندوستانی حکومت اس حساس سیاسی وقت کے دوران اشیائے خوردونوش کی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بے چین ہے۔
پابندی بحیرہ اسود کے اقدام کی تجدید نہ ہونے، اور گندم کی سپلائی متاثر ہونے کے ساتھ موافق ہے. بھارت کے چاول کی برآمدات روکنے کے فیصلے سے عالمی اناج کی سپلائی میں مزید تناؤ آنے کی توقع ہے۔تاہم، بھارت نے پابندی کو نافذ کرنے میں حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے. کیونکہ اس نے کئی افریقی ممالک کوچاولوں کی کچھ اقسام برآمد کیے، اور ایک قسم کو بنیادی طور پر بنگلہ دیش کو برآمد کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بھارت اور دیگر افریقی ممالک کے درمیان کسی بھی منفی سفارتی اثرات سے بچنا ہے، جن کے ساتھ بھارت مثبت تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے