fbpx

ذیابیطس کا مرض اور انسولین کے 100 سال. تحریر شاہ زیب احمد

شوگر یعنی ذیا بیطس ایک دائمی مرض ہے اور جسم کے تقریباً ہر حصے کو متاثر کرتا ہے، پاکستان میں تقریبا 4 کروڑ لوگ ذیا بیطس کا شکار ہیں.
دراصل جو غذا ہم کھاتے ہیں اسی سے ہمارا جسم توانائی حاصل کرتا ہے، وہ توانائی پروٹین ، فیٹ اور کاربوہائڈریٹ کے صورت میں ہوتی ہے جو نظام ہضم سے پورے جسم میں تقسیم ہو جاتی ہے، جسم کے لئے توانائی کا ایک بنیادی ذریعہ کاربوہائڈریٹ ہے جو مختلف گلوکوز سے مل کر بنتا ہے۔ یہی توانائی یعنی جو کھانا ہم نے کھایا ہوتا ہے وہ نظام انہضام میں چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے، کاربوہائیڈریٹس بھی چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر گلوکوز بن جاتے ہیں جہاں سے خون میں شامل ہو کر پورے جسم میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور سیلز (خلیوں) میں چلے جاتے ہیں اور خلیوں یعنی پورے جسم کو توانائی مل جاتی ہے!
کاربوہائیڈریٹس ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر گلوکوز بن جانے کے خون میں شامل ہو تو جاتے ہیں لیکن گلوکوز کے ساتھ یہاں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ انسولین کے بغیر یہ خلیوں کے اندر نہیں جا سکتے، جیسے کسی افسر سے ملنے کے لئے وہاں کے سیکورٹی گارڈ اندر لے کے جاتے ہیں ایسے ہی ہر سیل (خلیے) پر موجود انسولین ریسپٹر (گارڈ) ہوتے ہیں اور ان ریسپٹر کے مدد سے گلوکوز خلیے کے اندر جاتے ہیں اور جسم کو توانائی حاصل ہو جاتی ہے.
*اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسولین ہے کیا؟*
انسولین ایک ہارمون ہے جو ہمارے جسم کے حصے Pancreas یعنی لبلبے میں پیدا ہوتا ہے،
لبلبہ انسولین بنا دیتا ہے جو خون میں شامل ہو کر خلیوں تک پہنچ جاتا ہے جہاں یہ انسولین گلوکوز کے لئے راستہ بنا کر خلیوں کے اندر جانے میں مدد دیتا ہے،
خون میں اگر گلوکوز کا لیول بڑھ جائے (عموما زیادہ میٹھی چیزیں کھانے سے) تو لبلبے کو میسج چلا جاتا ہے جہاں سے وہ زیادہ انسولین خارج کر دیتا ہے اور گلوکوز کو زیادہ مقدار میں خلیوں میں پہنچا کے خون میں گلوکوز کی مقدار کم کر دیتا ہے یعنی خون میں گلوکوز لیول کنٹرول رکھتا ہے،
شوگر یعنی ذیا بیطس کے صورت میں صورتحال مختلف ہوتی ہے جس میں اگر خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جائے تو وہ کم نہیں ہوتی، اس کے دو اہم وجوہات ہے
پہلا یہ کہ لبلبہ ٹھیک کام نہیں کر رہا اور انسولین پیدا ہی نہیں ہے رہا، اس حالت کو ٹائپ 1 ذیا بیطس کہتے ہیں، جسکا علاج صرف انسولین کے ٹیکے لگانا ہی ہیں

دوسرا یہ کہ لبلبہ ٹھیک کام کر رہا لیکن خلیوں پہ موجود انسولین ریسپٹر کام چھوڑ دیتے ہیں اور گلوکوز کو خلیوں کے اندر جانے نہیں دیا جاتا، اس قسم کو ٹائپ 2 ذیا بیطس کہتے ہیں، اس کا علاج انسولین کے ٹیکے کیساتھ ساتھ مختلف گولیوں کے شکل میں بھی موجود ہے.

آج سے سو سال پہلے یعنی 1921 تک ذیا بیطس (شوگر کا مرض) ایک لاعلاج مرض تصور کیا جاتا تھا، جہاں یہ تصور عام تھا کہ ٹائپ 1 ذیا بیطس کے شکار مریض ایک یا دو سال ہی زندہ رہ سکتے ہیں،
لیکن بیسوی صدی میں ایک عظیم ایجاد کیا گیا جس سے بے شمار انسانوں کی زندگیاں بچائی جانے لگی اور اس ایجاد کو "ہیمولین/انسولین” کا نام دیا گیا جس سے آج کروڑوں لوگ ذیا بیطس کا علاج کر رہے،

1920 تک سائنس دانوں نے لبلبے کے خلیوں پر تحقیق کر لی تھی جسے islets کا نام دیا گیا اور یہ دریافت ہو گیا کہ islets ہی وہ خلیے ہے جن کے ناکارہ ہونے سے لوگ ذیا بیطس ٹائپ 1 کا شکار ہوتے ہیں، یہ معلوم کرنے کے بعد مزید تحقیق آسان ہوگئی جس سے اس مرض کا علاج ڈھونڈا جا سکیں.
اکتوبر 1920 میں کینڈین سرجن فریڈریک بینٹنگ Frederick Banting نے انسولین کے بارے میں ایک آرٹیکل پڑھا جہاں سے اسے تحقیق کرنے کا ایک آئیڈیا مل گیا، یہ بات بھی واضح ہوگئی تھی کہ شوگر کا تعلق میٹھی اور زیادہ کلیوریز والی خوراک کے کھانے سے ہے اور میٹھا کھانا چھوڑنے سے مریضوں میں کچھ بہتری آتی ہیں،
فریڈریک بینٹنگ چونکہ سائنس دان نہیں تھے اور تحقیق کرنے میں مشکلات پیش آرہی تھی تو 7 نومبر 1920 کو انہوں نے یونیورسٹی آف ٹورنٹو کا دورہ کیا جہاں پہ وہاں کے ٹاپ پروفیسر جوہن جیمس ریکارڈ میکلاڈ سے ملاقات کی اور دونوں نے ایک ساتھ تحقیق کرنے کا ارادہ کر لیا۔
مہینوں محنت کے بعد بالآخر 17 مئی 1921 کو تجربہ شروع کر لیا ، میکلاڈ نے تجربہ گاہ فراہم کرنے سمیت ایک ریسرچ اسٹوڈنٹ چارلس ہربرٹ بیسٹ جو خون میں گلوکوز کا مقدار ناپنے میں ماہر تھے کو فریڈریک بینٹنگ کا اسسٹنٹ بنا دیا.
بینٹنگ، میکلاڈ اور بیسٹ تینوں نے مل کر ریسرچ شروع کی کہ کیسے *کتے* کے لبلبے سے انسولین ہٹایا جا سکتا ہے، آپریشن کے ذریعے کتوں کے لبلبے نکالے گئے، جس سے دوائی بنانا شروع کر دیا، یہاں یہ واضح ہو گیا تھا کہ لبلبے کے بغیر کتے ذیا بیطس کے مرض کا شکار ہو گئے ہیں،
کئی تجربات ناکام ہونے کے بعد جولائی میں ایک کامیاب تجربہ کیا جسکا بالآخر 10 نومبر 1921 کو پہلا کامیاب نتیجہ سامنے آگیا، ابھی بھی اتنی خاص دریافت نہیں ہوئی تھی لیکن انہوں نے ذیا بیطس کے شکار کتے میں انسولین کے ٹیکے لگانے سے 70 دن تک کتے کو زندہ رکھا، مزید کئی تجربات کئے،. کتوں پر کامیاب تجربے کے بعد اب اسے انسانوں پر آزمانے کے لئے 12 دسمبر 1921 کو ایک بائیو کمیسٹ جیمس کولیپ بھی فریڈریک کی ٹیم میں شامل ہوگئے، تاکہ وہ حاصل شدہ انسولین کو مزید صاف کر سکے اور انسانوں پر آزمانے کے قابل بنا سکیں، اس دفعہ انسولین ایک گائے کے لبلبے سے حاصل کی گئی.
*انسانوں پر تجربہ*
11 جنوری 1922 کو ایک 14 سالہ نوجوان لیونارڈ تھامسن جو ٹائپ 1 ذیا بیطس کا شکار تھا اور شوگر لیول زیادہ ہونے کی وجہ سے مرنے کے قریب تھا کو ٹورنٹو ہسپتال میں انسولین کا ٹیکہ لگا دیا گیا 24 گھنٹوں کے اندر تھامسن کا ہائی شوگر لیول کم ہو گیا، لیکن ساتھ ہی تھامسن کو انجکش کی جگہ انفکشن ہوگیا تھا جو ایک سائیڈ ایفکٹ تھا، بائیو کمیسٹ کولیپ نے دن رات محنت کی تاکہ انسولین کو بالکل شفاف بنایا جا سکے اور سائیڈ ایفکٹس کم سے کم تر کرسکیں، 23 جنوری 1922 کے دن تھامسن کو انسولین کا دوسرا ٹیکہ لگایا گیا اور اس بار اسکا ہائی شوگر لیول نارمل پہ آگیا اور کوئی انفکشن/ سائیڈ ایفکٹس بھی ظاہر نہیں ہوئے جو ایک مکمل طور پر کامیاب تجربہ ثابت ہو گیا،
بینٹنگ اور بیسٹ اب مزید تحقیق اور محنت کر رہے تھے تاکہ انسولین کو زیادہ مقدار میں حاصل کیا جا سکیں ، ایلی لیلے پہلے انسان تھے جنہوں نے اس میں مدد کی اور انسولین کو زیادہ مقدار میں بنانا شروع کیا، تجربہ کامیاب ہو گیا تھا لوگ ٹھیک ہونے لگ گئے تھے
یہ خبر دنیا میں آگ کی طرح پھیلنے لگی، اور اس ایجاد کو ایک عظیم کارنامہ بتایا گیا،
25 اکتوبر 1923 کو یہ عظیم کارنامہ سرانجام دینے کے اعتراف میں بینٹنگ اور میکلاڈ کو مشترکہ طور پر نوبل پرائز انعام سے نوازا گیا (جو انہوں نے ٹیم کے ساتھ شئیر کر دیا تھا).
ذیا بیطس کے علاج کے لئے کافی عرصے تک انسولین جانوروں (گائے اور خنزیر) سے حاصل کیا جاتا رہا، لیکن یہ زیادہ مؤثر نہیں تھا زیادہ تر مریضوں میں اس کے سائیڈ ایفکٹس آرہے تھے بالآخر محنت اور تحقیقات سے 1978 میں پہلی دفعہ انسانوں کے خلیوں سے حاصل شدہ انسولین بنایا گیا جسے humulin کا نام دیا گیا، 1983 میں ایلی لیلے نے باقاعدہ طور پہ یہ انسولین بنانا شروع کیا اور اسکی سپلائی بھی تیز کر دی گئی، آج انسولین مختلف اقسام میں مختلف ناموں سے مارکیٹ میں دستیاب ہے جس سے کروڑوں لوگوں کا علاج ہو رہا ہے.
اج انسولین کے کامیاب تجربے کو 100 سال پورے ہوگئے ان سو سال میں کروڑوں لوگوں کی زندگیاں آسان ہو چکی ہے سو سال پہلے جو لا علاج مرض تھا اب اس مرض کے ساتھ لوگ روز مرہ کی خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں جس کا سہرا یقیناً بینٹنگ اور اسکی ٹیم کو جاتا ہے..