وزیر مملکت شزہ فاطمہ نے کہا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ سست روی کا شکار ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے، پی ٹی اے ویب مینجمنٹ سسٹم آپریٹ کررہا ہے۔

باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے شزہ فاطمہ نے کہا کہ سائبر پرائیویسی کو یقنیی بنائیں گے، ڈیٹا پروٹیکشن قانون لارہے ہیں جس سے صارفین کو تحفظ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کی ہدایت پر ایکس بند ہے، اس وقت دہشت گردی یا قومی سیکیورٹی کے چیلنجز ہیں، ابھی آئی پیز، وی پی این کو رجسٹر کرنے کی مہم شروع کی ہے، اس سیکیورٹی سے بزنس پر اثر نہ ہو اس کا خیال رکھا جاتا ہے۔شزہ فاطمہ نے کہا کہ مالی فراڈ کی وجہ سے باہر سے بزنس نہیں آرہا کیونکہ وہ کہتے ہیں یہاں ڈیٹا کا تحفظ نہیں ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ پی ٹی اے نے اسٹیٹ بینک سے درخواست کی ہے کہ سیکٹر کےلیے درآمدی پابندیاں نرم کی جائیں اور ٹیلی کام سیکٹر کے آلات کو ترجیحی ضروری اشیاء قرار دیا جائے۔

جنسی زیادتی کرنے والے ہالی ووڈ پروڈیوسر پر فرد جرم عائد

واضح رہے کہ اس سے قبل گذشتہ روز وزیرمملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ کے حوالے سے عوام میں بےچینی پائی جا رہی ہے لیکن ’ملک میں انٹرنیٹ کو سرکاری سطح پر بند کیا گیا نہ ہی اس کی رفتار سست کی گئی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’جب وی پی این آن کرتے ہیں تو لوکل سی بی این کو بائی پاس کر کے آپ لائیو سرور پر چلے جاتے ہیں اور وی پی این آن کرتے ہیں تو دور کے سرور سے ڈائریکٹ کنیکٹ ہوتے ہیں۔ لوگوں کے اتنی زیادہ تعداد میں لائیو سرور پر جانے سے لائیو انٹرنیٹ پر پریشر پڑتا ہے تو انٹرنیٹ سلو ہو جاتا ہے۔‘

فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ مجرمان کی اپیلوں پر سماعت ملتوی

Shares: