تہران اور اہواز میں جاری اسرائیلی حملوں کے دوران بھارتی حکومت نے کشمیری طلبہ کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ ایران کے مختلف شہروں میں موجود کشمیری طلبہ سائرنوں کی گونج میں شدید خوف و تنہائی کا شکار ہیں جبکہ بھارتی سفارتخانے نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔
کشمیر میڈیا سروس (KMS) کے مطابق ایرانی شہروں میں جاری کشیدہ صورتحال کے دوران کشمیری والدین اپنے بچوں کی خیریت جاننے کے لیے بار بار کالز کر رہے ہیں، لیکن دہلی سرکار کے سفارتی نمائندے کوئی جواب نہیں دے رہے۔
تہران اور اہواز کے ہاسٹلز میں محصور کشمیری طلبہ شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ جنگی سائرنوں اور حملوں کے دوران ان کی مدد کے لیے کوئی حکومتی اقدام سامنے نہیں آیا۔
جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق کئی ممالک بشمول پاکستان اور عرب ریاستوں نے اپنے طلبہ کو ایران سے واپس بلا لیا، مگر بھارت نے کشمیری طلبہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔طلبہ تنظیم کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو متعدد خطوط ارسال کیے گئے مگر نہ کوئی تسلی دی گئی، نہ ہی کوئی عملی قدم اٹھایا گیا۔ موجودہ صورتحال میں طلبہ محفوظ انخلا اور رابطے کے متلاشی ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات
سوشل میڈیا پر پاکستان سے متعلق امریکی جاسوسی کا دعویٰ جھوٹا قرار
اسرائیل کا ایران کے مغرب میں بمباری کا نیا سلسلہ، تہران کے قریب میزائل مرکز تباہ
عالمی سروے: کراچی دنیا کا چوتھا بدترین رہائشی شہر قرار
لیبیا کشتی حادثہ 2025: ایف آئی اے نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا