پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک نئی لہر دیکھنے میں آئی ہے جب جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک سیاسی اور معاشی چیلنجز سے دوچار ہے۔ڈاکٹر عشرت العباد کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو عمرہ کی مبارکباد دینے سے ہوا۔ تاہم، جلد ہی بات چیت ملکی صورتحال کی طرف مڑ گئی۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی پاکستان کی سلامتی اور وحدت پر اپنے غیر متزلزل یقین کو دہرایا۔مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر کہا کہ حکومتوں کی نااہلی کی سزا ریاست اور عوام کو بھگتنی پڑ رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کی "فاش غلطیوں” کا ذکر کیا جن کا خمیازہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔ یہ بیان موجودہ حکومت پر ان کی تنقید کو ظاہر کرتا ہے۔ڈاکٹر عشرت العباد کی سیاست میں واپسی پر مولانا فضل الرحمان نے خوش آمدید کہا، اسے "نیک شگون” قرار دیا.
اس موقع پر ڈاکٹر العباد نے اپنی نئی سیاسی جماعت کے بارے میں بھی بتایا، جو کہ پاکستان کی سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ لا سکتی ہے۔دونوں رہنماؤں نے ملک کی سلامتی اور وحدت کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ یہ بات چیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ان دو اہم سیاسی شخصیات کے درمیان قریبی تعاون دیکھنے میں آ سکتا ہے۔یہ ملاقات پاکستان کی سیاست میں ایک نئی قوت کے ظہور کا اشارہ دے رہی ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد کی تجربہ کار شخصیت اور مولانا فضل الرحمان کی مذہبی و سیاسی قوت کا اتحاد ملکی سیاست میں نئے توازن کا باعث بن سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ تعلقات کس سمت میں آگے بڑھتے ہیں اور ان کا ملکی سیاست پر کیا اثر پڑتا ہے۔

Shares: