مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیل نے ایران پر تازہ فضائی حملے شروع کر دیے ہیں، جس کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران سمیت 7 مختلف صوبوں میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی ایران کے شہر خرم آباد میں زیر زمین میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں زمین سے زمین پر مار کرنے والے کروز میزائل موجود تھے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے میڈیا کو بتایا کہ "یہ ایک اہم تنصیب تھی، جسے ایرانی حکومت خود بھی ماضی میں ویڈیو میں ظاہر کر چکی ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حملے میں کروز میزائلوں، لانچ شافٹوں اور ذخیرہ کرنے والی سرنگوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جب کہ اس نوعیت کے درجنوں دیگر مقامات کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

قبل ازیں اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ جمعہ کی صبح شروع ہونے والے فضائی حملوں میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ محمد باقری سمیت 20 سے زائد اعلیٰ کمانڈرز کو شہید کر دیا گیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں کے بعد تہران کے علاوہ ہرمزگان، کرمانشاہ، لرستان، قم، مشرقی آذربائیجان، خوزستان، تبریز اور اصفہان میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے تاکہ دشمن کے اہداف کا فوری جواب دیا جا سکے۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مختلف شہروں میں اسرائیلی حملوں کے بعد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جب کہ دارالحکومت تہران اور بندرعباس میں حملوں کے نتیجے میں ہنگامی صورت حال نافذ ہے۔اسرائیل کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ایران پر حملوں کی نئی اور شدید لہر شروع کر دی گئی ہے، جس کے دوران ہرمزگان، کرمانشاہ، مغربی آذربائیجان، لرستان اور خوزستان میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی فضائیہ نے جنوبی ایران کے شہر دیزفل میں اسرائیلی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی نے ایک تصویر بھی جاری کی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ اسرائیلی ڈرون ہے جو ایران میں گرایا گیا۔ پریس ٹی وی کے مطابق ڈرون دیزفل کے مقام پر گرایا گیا، جو کہ ایران کے جنوبی حصے میں واقع ہے۔اس سے قبل ایرانی حکام نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک گھنٹے کے دوران اسرائیل کے 10 طیارے مار گرائے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوجی ترجمان کا تہران پر بڑے حملے کا دعویٰ، 40 اہداف نشانہ بنائے گئے

اسرائیلی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ تہران پر دو گھنٹے تک ستر سے زائد طیارے پرواز کرتے رہے اور چالیس اہم اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔یہ کارروائی ایران کے اندر اب تک کی سب سے بڑی فضائی کارروائی قرار دی گئی ہے، جس میں متعدد فوجی اور اسٹریٹجک تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس حملے کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

اسرائیل نے یمن میں بھی کارروائی کا آغاز کر دیا، حوثی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

اسرائیل نے ایران کے ساتھ ساتھ یمن میں بھی عسکری کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے یمن میں حوثی رہنماؤں پر حملے کیے ہیں۔رپورٹس کے مطابق تازہ اسرائیلی حملوں میں حوثی ملیشیا کے ملٹری چیف محمد الغماری کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں سے متعلق تاحال کسی قسم کی سرکاری تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یمنی ذرائع اور حوثی گروپ کی جانب سے بھی اس حوالے سے خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

ایران کا اسرائیل پر ایک اور حملہ، حیفا کی آئل ریفائنری اور بندرگاہ پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش

ایران پر اسرائیلی حملوں کو امریکی صدر کی حمایت حاصل ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ

ایرانی حملوں کے خوف سے دیوارِ گریہ سنسان، اسرائیلی قیادت زیرِ زمین پناہ گاہوں میں منتقل

ایف-35 طیارہ گرانے اورخاتون پائلٹ گرفتار ی کی اسرائیل نے تردید کر دی

Shares: