تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جنگی کابینہ سے دو وزرا کے مستعفی ہونے کے بعد اب 6 رکنی جنگی کابینہ تحلیل کردی ہے۔

باغی ٹی وی : گزشتہ دنوں غزہ میں جنگ جاری رکھنے کے معاملے پر جنگی کابینہ میں اختلافات پیدا ہوئے، جس کے بعد 2 وزرا اس کابینہ سے مستعفی ہوئے،جنگی کابینہ سے وزرا کے مستعفی ہونے کے بعد سے اسرائیلی وزیر اعظم پر انتہاپسند جماعتوں کی جانب دباؤ تھا کہ اس کابینہ میں نئے ارکان کو شامل کیا جائے،اس ساری صورتحال میں نیتن یاہو نے آج جنگی کابینہ ہی تحلیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق جنرل بینی گینٹز کے مستعفی ہونے کے بعد جنگی کابینہ کی ضرورت نہیں رہی۔

جنگی کابینہ چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے ایک مستعفی رکن بینی گینٹز نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وزیر اعظم، ہمیں جنگ میں حقیقی کامیابی سے روک رہے ہیں اسی لیے ہم نے ایمرجنسی کابینہ چھوڑ دی،بینی گینٹز اسرائیلی اپوزیشن رہنما ہیں لیکن حماس کے اسرائیل پر7 اکتوبر کے حملے کے بعد بنائی جانے والی 6 رکنی جنگی کابینہ کا حصہ تھے-

دوسری جانب سابق اسرائیلی سفارتکار الون نے کہا کہ نیتن یاہو کے جنگی کابینہ کے خاتمے کے فیصلے کے بعد غزہ اور لبنان میں اسرا ئیلی حملے بڑھنے کا امکان ہے۔

Shares: