باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو چیلنج دیتے ہوئے سوال کا جواب مانگ لیا اور کہا کہ جواب دینا پڑے گا یہ مت سمجھیے گا کہ کوئی اور خبر آ گئی تو اس سوال کو بھول جائیں گے،
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مریم نواز صاحبہ آپ سے میرا ایک سوال ہے، اس کا جواب دلوا دیجیے گا اپنی کنیز کو کہہ دیجیے گا یا ڈی جی پی آر، سیکرٹری اطلاعات کوئی بھی دے سکتا ہے،یہ بتائیں کہ میں نے سنا کہ اتحاد ٹاؤن میں آپ کے بیٹے کی، چوہدری منیر، کھوکھروں کی بہت بڑی انویسمنٹ ہے، اس کی قیمت بڑھانے کے لئے کیا کیا گیا، ابھی خبر نہیں آئی، یہ سوال پوچھ رہا ہوں، مجھے جو چڑیل بتا رہی ہے کہ چیف سیکرٹری نے 40 ارب اتحاد ٹاؤن پر لگا دیا، وہاں کوئی تھیم سٹی بنانی ہے جس سے اتحادٹاؤں کی قیمت اور بڑھ جائے گی،اگر یہ صحیح ہے تو میں نے ایک رائے دینی ہے کیونکہ میں عمر میں بڑا ہوں،یہ یاد رکھنا کفن کی جیبیں نہیں ہوتیں،جتنا مرضی کمانا ہے کما لیں، بچانا ہے بچا لیں کفن کی جیب نہیں ہوتی،مجھے کنفرم کر دینا یہ خبر صحیح ہے یا نہیں ورنہ یہ نہ کہنا کہ کوئی اور آفت آئے گی، دس بارہ لوگ مر جائیں گے تو یہ خود ہی بھول جائے گا باقی خبروں کے پیچھے لگ جائے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب تو آپ نے پنجاب اسمبلی میں قانون بھی بنا دیا ہے کہ ہم تو یہ بھی نہیں پوچھ سکتے کہ اشتہاروں کی مد میں آپ نے کتنا پیسہ خرچا ،اگر حکومت بتا دے گی تو سب کو پتہ چل جائے گا کہ میڈیا والوں کو کتنی رشوت دی گئی.کس کس کا منہ بند کیا گیا، میڈیا والوں کو بھی پتہ چلنا چاہئے کہ کفن کی جیب نہیں ہوتی، سیلاب پر کام کچھ نہ کچھ شروع کر دیں، آپ کے دوروں سے کچھ نہیں ہوتا،امدادی کام رک جاتا ہے، پولیس پروٹوکول دینا شروع کر دیتی ہے، ریسکیو ادارے آپ کو دکھانے کے لئے کاروائی کرتے ہیں، سیکرٹریٹ میں بیٹھ کر کام کریں گی تو ادارے صحیح کام کریں گے، اسوقت پاک فوج گلگت بلتستان،خیبر پختونخوا،پنجاب ہر جگہ کام کر رہی ہے، پاک فوج کو سلام ہے ،لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی جتنی سیاسی جماعتیں ہیں،وہ کہیں بھی سیلاب میں نظر نہیں آ رہیں، دعوت اسلامی نظر آ رہی ہے، ان کے کارکنان رضاکار جان کو خطرے میں ڈال کر امدادی سامان پہنچا رہے ہیں، مرکزی مسلم لیگ بھی کام کر رہی ہے، انکے رضاکاروں کو سلام ہے، بے لوث ہو کر لوگوں کو ریسکیو کر رہے ہیں، ضروریات زندگی کی چیزیں پہنچا رہے ہیں،یہ سب سے بہتر ہیں، سیاسی جماعتوں سے تو پاک فوج ہی بہتر ہے.