جعلی کال سینٹرز کے ذریعے شہریوں کیساتھ فراڈ کے کیسز ،پی ٹی اے نے کال سینٹرز، سافٹوئیر ہاوسز کی رجسٹریشن سے لاتعلقی کا اظہار کردیا
پی ٹی اے کال سینٹرز اور سافٹوئیر ہاوسز کو ریگولیٹ نہیں کرتا، پی ٹی اے دستاویز کے مطابق سائبر کرائمز اور آن لائن فراڈ پی ٹی اے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے،پی ٹی اے سائبر کرائمز سے متعلق آن لائن مواد کیخلاف کاروائی کرتا ہے،پی ٹی اے نے 13 ہزار سے زائد الیکٹرانک فراڈ سے متعلق لنکس بلاک کر دیے،الیکٹرانک فراڈ سے متعلق 13,185 یو آر ایل بلاکنگ کے لیے پراسیس کیے،سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے 13,021 لنکس بلاک کر دیے گئے،ایس ای سی پی، این سی سی آئی اے اور اسٹیٹ بینک کی سفارشات پر کاروائی کی گئی ،فیس بک سے متعلق رپورٹ ہونیوالے 1,357 لنکس میں سے 1,246 کو بلاک کیا گیا،47 لنکس زیر جائزہ ہیں جبکہ 64 لنکس فیس بک نے مسترد کیے،الیکٹرانک فراڈ سے متعلق 41 لنکس انسٹاگرام کو رپورٹ کیے گئے،انسٹاگرام نے 39 بلاک کیے، ایک زیر جائزہ اور ایک مسترد ہوا،یوٹیوب نے الیکٹرانک فراڈ سے متعلق 122 لنکس میں سے 99 بلاک کیے،یوٹیوب کے 8 زیر جائزہ ہیں جبکہ 15 کو پلیٹ فارم نے رد کر دیا،پی ٹی اے نے ٹوئٹر کو الیکٹرانک فراڈ سے متعلق 6 لنکس رپورٹ کیے،ٹوئٹر کو رپورٹ کیے گئے لنکس میں سے 5 بلاک کیے ، ایک زیر جائزہ ہے،
پی ٹی اے نے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو الیکٹرانک فراڈ کے 11,659 لنکس رپورٹ کیے ،دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے 11,632 بلاک کردیئے،پی ٹی اے کیجانب سے رپورٹ کیے گئے لنکس کی بلاکنگ کی شرح 98.76 فیصد رہی،پی ٹی اے پیکا کے تحت غیر قانونی آن لائن مواد کو ہٹاتا یا بلاک کرتا ہے،الیکٹرانک فراڈ کی تحقیقات پیکا کے تحت FIA اور NCCIA کرتے ہیں،آن لائن فراڈ سے بچاؤ کے لیے پی ٹی اے نے عوامی آگاہی جاری رکھے ہوئے ہے