مشیر خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ جلسہ کرنا تحریک انصاف کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت کی جانب سے کچھ سیاسی جماعتوں کو جلسے کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ تحریک انصاف کو اس حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں سوائے تحریک انصاف کے، تمام جماعتوں کو جلسوں کی اجازت دی جا رہی ہے، جسے وہ ناانصافی اور جانبداری قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا مقصد دھرنا دینا نہیں ہے بلکہ وہ ایک پرامن جلسہ منعقد کرنا چاہتے ہیں۔ اگر کبھی دھرنے کی ضرورت پیش آئی تو اس کا اعلان کھلے عام کیا جائے گا، لیکن اس وقت صرف جلسے کی بات ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ترنول میں جلسہ کے بعد تحریک انصاف کے کارکن پرامن طریقے سے واپس چلے جائیں گے اور کسی قسم کے تصادم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
لیکن اگر جلسہ کرنے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تو تحریک انصاف اپنا راستہ خود صاف کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکن خیبرپختونخوا اور پنجاب سے اسلام آباد آئیں گے، اور وہ عدالت کے حکم کے تحت ہر حال میں جلسہ کریں گے۔بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ عوام کی جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور تاریخ نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ عوام ہی جیتتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا موقف قانونی اور جمہوری ہے، اور وہ اپنی جدوجہد کو پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے۔تحریک انصاف کے اس بیان کے بعد سیاسی ماحول مزید گرما گیا ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس جلسے کو کس طرح سنبھالتے ہیں۔ بیرسٹر سیف کے بیانات نے اس جلسے کو ایک اہم سیاسی سرگرمی بنا دیا ہے، جس کے اثرات آگے جا کر ملکی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
Shares:








