پاکستان کی سیاست کے بدلتے ہوئے تناظر میں جماعت اسلامی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ گزستہ دنوں لاھور میں ہونے والا جماعت اسلامی پنجاب کا تاریخی اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت اسلامی ایک بار پھر اپنی تنظیمی طاقت بحال کرنے اور عوامی سیاست میں نئی روشنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لاہور کا اجتماع صرف ایک تنظیمی تقریب نہیں تھا بلکہ یہ جماعت کی سیاسی سمت کے تعین میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کراچی میں جماعت اسلامی کی حالیہ مقبولیت اس اسکے سیاسی مستقبل کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں جماعت نے جس موثر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس نے نہ صرف شہری طبقات میں اسکی ساکھ کو مضبوط کیا بلکہ یہ تاثر بھی قوی ہوا کہ جماعت اسلامی ابھی صرف نظریاتی ووٹرز تک محدود نہیں بلکہ شہری مسائل کے حل کے لیے ایک سنجیدہ متبادل کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ، پانی، نکاسی، تجاوزات اور شہری سہولیات جیسے مسائل پر جماعت کی مسلسل مہم نے اسے دیگر جماعتوں کے مقابلے میں عملی سیاست کا نیا چہرہ فراہم کیا۔ یہ وہ کریڈٹ ہے جو اب پنجاب سمیت دیگر صوبوں تک منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پنجاب تاریخی طور پر مذہبی اور نظریاتی سیاست کے لیے زرخیز رہا ہے مگر گزشتہ دہائیوں میں جماعت اسلامی جہاں مطلوبہ انتخابی نفوس پیدا نہ کر سکی تاہم لاھور میں حالیہ اجتماع نے یہ تاثر بدلا ہے۔ اس اجتماع میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت سے یہ واضح ہوا کہ جماعت اب پنجاب میں ایک نئے بیانیے اور نئی تنظیمی حکمت عملی کیساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ جماعت کی نئی حکمت عملی تین اہم نکات ہر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ تنظیمی ڈھانچے کی بھرپور بحالی۔ بلدیاتی سطح پر فعال موجودگی۔ عوامی مسائل کے حل کو نظریاتی سیاست کیساتھ جوڑنا۔ اگر جماعت اپنے بیانیے کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی تو پنجاب میں اسے پہلے سے بہتر عوامی پزیرائی مل سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کا نوجوان منظر نامہ، مواقعے اور چیلنجز دونوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایک طرف عوام کی نظریاتی سیاست سے مایوسی جماعت کے لیے جگہ پیدا کر رہی ہے، تو دوسری طرف روایتی بڑی جماعتوں کا دباؤ اس کے لیے سخت امتحان بھی ہے۔ سیاسی منظر نامے میں جماعت اسلامی کا مستقبل چند باتوں پر منحصر ہو گا۔ کیا جماعت اسلامی کراچی ماڈل کو پنجاب میں دہرا سکے گی؟ کیا قیادت نوجوان ووٹرز تک رسائی برھا سکے گی؟ کیا جماعت اپنی عوامی سیاست کو جدید میڈیا اور تنظیمی اسٹرجیٹی کے مطابق ڈھال سکے گی؟ اگر یہ تینوں سوالات کے جوابات مثبت ہوئے تو جماعت اسلامی نہ صرف پنجاب میں بلکہ قومی سطح پر بھی اپنی سیاسی حیثیت بہتر بنا سکتی ہے۔ جماعت اسلامی ایک بار پھر پاکستانی سیاست کے افق پر نئی توانائی کیساتھ ابھر رہی ہے۔ لاھور کا اجتماع اس سفر کا نیا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ جبکہ کراچی کی کامیابی جماعت کے لیے اعتماد کا سب سے مضبوط سہارا ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر جماعت اپنی پالیسیوں میں یکسوئی برقرار رکھتی ہے تو وہ پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی سیاست بدلتے موسموں کی کہانی کی طرح ہے۔ کبھی کوئی جماعت مرکز نگاہ بنتی ہے، تو کبھی کوئی تحریک دھڑکنوں میں اتر آتی ہے۔ تاہم پاکستان کی سیاست میں خلا موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جماعت اسلامی اس خلا کو کیسے اور کس حد تک پر کرتی ہے۔ جماعت اس جگہ کو عملی سیاسی قوت میں بدل سکے گی یا نہیں۔ پنجاب کا سیاسی نقشہ فیصلہ کن رہا ہے یہاں کے ووٹر کا رحجان ملک کی مجموعی سیاست کی سمت تعین کرتا ہے۔ لاھور کے حالیہ اجتماع نے یہی پیغام دیا کہ جماعت اسلامی پنجاب میں ایک نیا آغاز چاہتی ہے اور شاید کر بھی چکی ہے۔

جماعت اسلامی کا پنجاب میں ایک نیا آغاز ،تجزیہ:شہزاد قریشی
باغی بلاگز39 سیکنڈز قبل







