صنعاء/غزہ: یمنی حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیل سے تجارت کرنے والے ایک اور تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف جنگ بندی کے مذاکرات میں نئی رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔
بحری راستوں پر حوثیوں کا کنٹرول
حوثی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق:
– "ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ اسرائیل کو سپورٹ کرنے والا کوئی بھی جہاز محفوظ نہیں ہوگا”
– گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں یونانی پرچم والے جہاز "ٹیوٹر” کو نشانہ بنایا گیا
– جہاز میں موجود 25 ملاحوں میں سے صرف 6 کو بحفاظت نکالا جا سکا
غزہ: جنگ کے ایک اور خونریز دن
مقامی ذرائع کے مطابق:
– رفح کے علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں 23 شہری ہلاک
– متاثرین میں 8 بچے اور 5 خواتین شامل
– مقامی ہسپتالوں میں زخمیوں کا انبار، طبی سہولیات ناکافی
مذاکرات کا اہم موڑ
قطر میں جاری مذاکرات کے بارے میں خصوصی ذرائع کا کہنا ہے:
– "نطزاریم کوریڈور” پر تنازعہ سب سے بڑی رکاوٹ
– حماس کا اصرار: اسرائیلی فوجی مکمل انخلا کریں
– اسرائیلی موقف: سلامتی کے لیے راستہ پر کنٹرول ضروری
علاقائی ردعمل
– ترکی: زبانی مذمت کے باوجود اسرائیل سے تجارت جاری
– آذربائیجان: تیل کی ترسیل کے بدلے جدید اسلحہ حاصل کر رہا
– ایران: حوثیوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے
انسانی حقوق کی پامالی
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا دعویٰ:
– "غزہ میں انسانی المیہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے”
– "امریکی پابندیاں حقائق کو چھپانے کی کوشش”
اختتامیہ:
صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف بحیرہ احمر میں بحری تجارت کو خطرات لاحق ہوں گے، بلکہ غزہ میں انسانی المیے میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔