مراکش کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی کے سانحے میں نیا موڑ سامنے آیا ہے،
مراکش کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی کے سانحے میں ایک نیا اور خوفناک پہلو سامنے آیا ہے، جس میں زندہ بچ جانے والوں نے انسانی اسمگلروں کے ذریعے تاوان لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس سانحے میں کم از کم 44 پاکستانیوں کی جانیں گئیں، اور اب یہ سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں کہ پاکستانی حکام نے ایسے مجرمانہ آپریشنز کی حمایت کی یا ان میں ملوث رہنے کے لیے آنکھیں بند کیں۔وہ زندہ بچ جانے والے افراد جو اس خوفناک تجربے سے بچ کر مراکش میں پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے آئے، انہوں نے اس سانحے کے حوالے سے ہولناک تفصیلات شیئر کیں۔ ان کے مطابق، 66 پاکستانیوں کو لے کر جانے والی کشتی کو اسمگلروں نے کھلے سمندر میں جان بوجھ کر روک دیا۔ اسمگلر پھر تاوان کا مطالبہ کرتے ہوئے صرف ان افراد کو رہا کرتے گئے جو ادائیگی کر سکے – جو کہ 21 افراد تھے۔ باقی تارکین وطن کو چھوڑ دیا گیا، جنہیں قدرتی آفات، بھوک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک زندہ بچ جانے والے نے بتایا، "انہوں نے ہمارے ساتھ جانوروں کی طرح برتاؤ کیا۔ جو لوگ پیسے نہ دے سکے، انہیں مارا پیٹا اور مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔”
اس انکشاف نے پاکستان میں غصہ اور غم کی لہر دوڑادی ہے، جہاں خاندان اپنے پیاروں کی موت پر سوگوار ہیں، جن میں سے بیشتر گجرات کے ضلع کے نوجوان تھے۔ عوامی غصے میں اضافے کی وجہ پاکستانی وزارتِ داخلہ کے افسران پر غفلت اور ممکنہ طور پر اسمگلروں کی حمایت کرنے کے الزامات ہیں۔ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے افسران انسانی اسمگلنگ کے آپریشنز پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں، رشوتیں لے کر تحقیقات میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور مجرمانہ عناصر کی سرپرستی کرتے ہیں۔ایک وزارت کے ذرائع نے الزام لگایا، "یہ افسران اسمگلروں کا تحفظ کر رہے ہیں۔ وہ اہم شواہد دفن کرنے اور ان مجرموں کو بچانے کے لیے ماہانہ پیسے وصول کرتے ہیں۔”
اس ممکنہ غفلت نے اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا ہے، جس سے سینکڑوں جانیں داؤ پر لگی ہیں۔جیسے ہی قوم اس سانحے پر غم و غصے میں ڈوبی ہوئی ہے، انصاف اور احتساب کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت پر شدید دباؤ ہے کہ وہ اس جرم میں ملوث اسمگلروں کے خلاف شفاف اور جامع تحقیقات کرے، ساتھ ہی وزارتِ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں موجود غفلت اور کرپشن کی تحقیقات بھی کرے۔
واضح رہے کہ 16 دسمبر کو افریقی ملک موریطانیہ سے غیرقانونی طور پر اسپین جانے والوں کی کشتی کو حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 تارکین وطن ہلاک ہوگئے،وزیراعظم شہباز شریف نے مراکش کے لیے ایک حکومتی ٹیم بھیجنے کا حکم دیا تھا جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نارتھ منیر مارتھ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سلمان چوہدری اور وزارت خارجہ اور انٹیلی جنس بیورو کے نمائندے شامل ہیں۔
دوسری جانب موریطانیہ میں حالیہ کشتی حادثے کے متاثرہ خاندانوں کا غم بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ وہ اب بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں۔ اس حادثے میں کئی پاکستانی شہریوں کی جانیں گئی ہیں، اور ان کے اہلِ خانہ شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار ہیں۔گوجرانوالہ کے دو سگے بھائی ہارون اور عزیر بھی اس حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔ عزیر تو کسی طرح بچ گیا لیکن اس کے بھائی ہارون اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔ عزیر کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے بھائی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن حالات اتنے زیادہ سنگین تھے کہ وہ اسے بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب، خیبرپختونخوا کے ایک نوجوان اجمل کا بھی موریطانیہ میں کچھ عرصہ سے کوئی پتا نہیں چل سکا۔ اس کے والدین ابھی تک نہیں جان پائے کہ ان کا بیٹا کشتی حادثے کا شکار ہوا ہے یا وہ زندہ ہے۔ اجمل کے اہلِ خانہ نے حکومتی اداروں سے درخواست کی ہے کہ ان کے بیٹے کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔اس کشتی حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد کی جانب سے حکومت سے مدد کی درخواستیں بھی سامنے آئی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر بچ جانے والوں کی تلاش میں مدد کرے اور دیگر تمام ضروری اقدامات کرے تاکہ ان کے پیاروں کو بازیاب کیا جا سکے۔
انسانی اسمگلنگ کے عالمی گروہ کا ایک اور ملزم گرفتار
موریطانیہ کے کشتی حادثے کی تحقیقات میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں گوجرانوالہ سے ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو انسانی اسمگلنگ کے عالمی گروہ کا رکن تھا۔ اس ملزم کی گرفتاری سے مزید اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے جو اس پورے نیٹ ورک کی شناخت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ان تمام مسائل کے درمیان متاثرین کے خاندانوں کی حالت ابتر ہو چکی ہے، اور ان کی جانب سے حکومت سے فوری اور موثر اقدامات کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ ان کے پیاروں کو بازیاب کیا جا سکے اور اس حادثے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
رپورٹ. زبیر قصوری، اسلام آباد