باغی ٹی وی: ایران اور اسرائیل کے درمیان 13 جون سے 24 جون تک جاری رہنے والی مسلسل 12 روزہ جنگ کے خاتمے پر ایران بھر میں عوامی سطح پر سکون اور اطمینان کی فضا قائم ہو گئی۔

جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی شہری سڑکوں پر نکل آئے اور معمولاتِ زندگی کی بحالی پر خوشی کا اظہار کیا۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کے باعث ملک بھر میں شدید جانی و مالی نقصان ہوا، سینکڑوں شہری جاں بحق ہوئے جبکہ ہزاروں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔ تاہم جنگ بندی کے اچانک اعلان نے شہریوں میں امید کی کرن جگا دی۔

تہران سمیت دیگر شہروں میں شہریوں نے سکھ کا سانس لیا، صفائی ستھرائی اور زندگی کی معمول کی طرف واپسی شروع ہو گئی۔ کئی افراد جو فضائی حملوں کی وجہ سے عارضی پناہ گاہوں یا رشتہ داروں کے گھروں میں مقیم تھے، اب اپنے گھروں کو واپس لوٹنے لگے ہیں۔شیراز کی رہائشی 40 سالہ شیما نے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "میں جنگ رکنے پر بے حد خوش ہوں۔ یہ ایک غیر ضروری جنگ تھی جس کی قیمت ہمیں عام شہریوں کو چکانا پڑی۔ اب ہم آخرکار سکون سے جی سکیں گے۔”

تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی کے بعد ملک میں عارضی سکون کی فضا ضرور قائم ہوئی ہے، تاہم عوام کو اب بھی خدشہ ہے کہ اگر سفارتی محاذ پر کشیدگی نہ کم کی گئی تو یہ امن وقتی ثابت ہو سکتا ہے۔ عوام نے قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خطے میں مستقل امن کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا شاہ سلمان اور محمد بن سلمان سے اظہارِ یکجہتی

وزیراعظم شہباز شریف سے بلاول بھٹو کی ملاقات، کامیاب سفارتی دوروں پر وفد کو خراج تحسین

کراچی میں جمعہ سے آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

چین ایران سے تیل خرید سکتا ہے، یہ میرے لیے باعث فخر ہے، صدر ٹرمپ

Shares: