کراچی میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے اور محکمہ موسمیات نے شہر قائد میں آئندہ 2 روز بارش کے حوالے سے اہم قرار دیے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں ایک سے 2 گھنٹے بعد مزید بارش ہوسکتی ہے، شہر میں آج کے مقابلے میں کل زیادہ بارش کا امکان ہے،کراچی میں منگل کی صبح سے وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث شہر میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے، نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا ہے۔قائد آباد، لانڈھی، ملیر، گلشن حدید، لیاقت آباد سی ون ایریا اور دیگر علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا ہے جب کہ شاہراہ فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ، ایم آر کیانی روڈ سمیت شہر کی بیشتر شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں۔شاہراہوں پر پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک جام میں ہزاروں شہری پھنس گئے۔ریسکیو حکام کے مطابق شہر میں مختلف حادثات میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔ریسکیو حکام کے مطابق گلستان جوہر بلاک 12 میں گھر کی دیوار گرنے سے 4 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ اورنگی سیکٹر ساڑھے 11 میں گھر کی دیوار گرنے سے ایک بچہ جاں بحق ہوا۔نارتھ کراچی میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ ڈیفنس خیابان بخاری میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ ملیر 15 میں پیٹرول پمپ پرآگ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔
موسمیاتی تجزیہ کار جواد میمن کا کہنا ہےکہ شہر کے اوپر مزید بادل بن رہے ہیں جس سے شہر میں مزید بارش ہوگی۔
ترجمان محکمہ موسمیات کے مطابق بھارتی ریاست مغربی اوڑیسہ کے پاس ایک سسٹم ڈپریشن کی صورت میں موجود ہے، یہ سسٹم آئندہ ایک سے ڈیڑھ دن میں بھارتی گجرات پہنچ جائے گا۔ ترجمان نے بتایا کہ اس دوران 23 اگست تک بارشوں کا سسٹم سندھ پر اثرانداز رہے گا جس سے صوبے کے اکثر مقامات پر درمیانی اور کہیں شدید موسلا دھار بارش ہوسکتی ہے۔ترجمان کے مطابق بارشوں کا یہ اچھا سسٹم لگ رہا ہے، آئندہ 2 روز کراچی میں بھی بارش کے حوالے سے بہت اہم ہیں جس دوران درمیانی سے تیز موسلادھار بارش کے باعث شہر میں اربن فلڈنگ ہوسکتی ہے۔موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہےکہ مون سون سسٹم بحیرہ عرب میں موجود ہے جس کے باعث کراچی میں آج وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہے گی، شہر میں آج تیز بارش ہوئی اور درجہ حرارت میں کمی آئی توکل معتدل بارش کا امکان ہے۔موسمیاتی ماہرین نے عوام سے اپیل کی کہ شدیدگرج چمک کے دوران شہری گھروں سے باہر نہ نکلیں اور گرج چمک کےدوران صرف ایمرجنسی کالز کےلیےفون استعمال کریں۔موسمیاتی ماہرین نے ہدایت کی کہ سڑک پر موجود افراد درخت، باڑ اور کھمبوں سے دور رہیں، آسمانی بجلی کی زد میں آنے والی ہر چیز پر براہ راست اثر ہوتاہے۔
کراچی شہر میں صبح سے اب تک ہونے والی بارش کے اعداد و شمار سامنے آگئے،محکمہ موسمیات کے مطابق آج سب سے زیادہ بارش گلشن حدید میں 145 ملی میٹر جبکہ کیماڑی میں 137ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جناح ٹرمینل پر 135 ملی میٹر جبکہ اولڈ ائیرپورٹ پر 125 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، سعدی ٹاؤن میں 123 اورگلستان جوہر میں 122 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔کلفٹن ڈی ایچ اے میں 121 ملی میٹر، فیصل بیس پر 114، سرجانی ٹاؤن میں 111،نارتھ کراچی 108ملی میٹربارش ریکارڈ ہوئی۔کورنگی میں 96.6، ناظم آباد میں 82 اور مسرور بیس پر 75 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ گلشن معمار میں 75.2 ملی میٹر اور اورنگی ٹاؤن میں 66.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
سندھ حکومت نے کل کراچی میں اسکولز بند رکھنے کا اعلان کردیا،وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ کا کہنا ہے کہ کل ممکنہ بارشوں کے باعث شہر کے اسکول بند رہیں گے،سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کا بھی کہنا ہے کہ کل کراچی میں نجی اور سرکاری اسکولز بند رہیں گے،شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی میں بارشوں کے دوران حکومت کی پوری مشینری فعال ہے، نکاسی آب کا کام جاری ہے، عوام کی جان اور حفاظت سب سے مقدم ہے، شہری غیرضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں،سندھ حکومت عوام کو ہرگز اکیلا نہیں چھوڑے گی اور شہریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ اگر 40 ملی میٹر سے زائد بارش ہوتی ہے تو صورتحال خراب ہوتی ہے، صبح سے اب تک شہر میں 100 ملی ملیٹر سے زائد بارش ہوچکی ہے، تنقید کرنا لوگوں کا حق ہے، لیکن حقائق بھی جان لینے چاہییں، شہر میں 2 گھنٹے مسلسل بارش ہوئی، ابھی بھی جاری ہے، ہم سب سڑکوں پر ہیں اور صورتحال کو دیکھ رہےہیں،مجھے اندازہ ہے کہ لوگ پریشان ہیں، لوگ غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں، انہوں نے کہا کہ بارش کے سلسلہ ختم ہونے کے بعدڈیڑھ گھنٹے کے بعد صورتحال معمول پر آتی ہے،شہر میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش ہوچکی، اگر 40 ملی میٹر سے اوپر بارش ہوتی ہے تو صورتحال خراب ہوتی ہے۔
کراچی میں موسلا دھار بارش کے باعث فضائی آپریشن شدید متاثر ہواہے، متعدد پروازیں منسوخ اور تاخیر کا شکار ہیں،شہر قائد میں جاری موسلا دھار بارش نے جہاں معمولات زندگی کو شدید متاثر کیاہے وہیں جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر فضائی آپریشن بھی شدید متاثر ہوا ہے،ایوی ایشن ذرائع کے مطابق بارش اور خراب موسم کے باعث 8 پروازیں منسوخ جب کہ 20 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں،اسکردو سے کراچی آنے والی پی آئی اے کی پرواز PK-456 لینڈ نہ کرسکی اور اسے متبادل ائیرپورٹ کی جانب موڑ دیا گیا۔ اسی طرح دبئی سے آنے والی پرواز FZ 335 کو کراچی کے بجائے ملتان روانہ کر دیا گیا،کراچی سے اسلام آباد کی 4 پروازوں کی آمد و روانگی میں بھی تاخیر ریکارڈ کی گئی جب کہ جدہ، دبئی، شارجہ، ابوظبی اور کولمبو سے آنے والی پروازیں بھی وقت پر لینڈ نہ کرسکیں،کراچی سے مدینہ، دبئی، پشاور،ٹورنٹو، جدہ کی پروازوں میں 1 سے 5 گھنٹے تاخیرہوئی،کراچی کوئٹہ کی قومی ائیرلائنز کی 2 پروازیں پی کے 310، 311 منسوخ کر دی گئیں،کراچی اسلام آبادکی قومی ائیر کی 2 پروازیں پی کے 308، 309 بھی منسوخ ہوگئیں۔کراچی سے دبئی کی دو پروازیں بھی منسوخ کر دی گئیں۔ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہےکہ تیز ہواؤں اور بارش سے پروازوں کی آمدورفت میں معمولی تبدیلی کی گئی ہے، چند پروازوں کی منزل تبدیل ہوگئی اور ان کو متبادل ائیر پورٹس پر اتارا گیا ہے،ترجمان کا کہنا ہےکہ موسم کی خرابی کے باعث پروازوں کی آمدورفت میں تاخیر ہوسکتی ہے۔موسم کی غیر متوقع صورتحال کے پیش نظر مسافر پروازوں کے متعلق معلومات لیں۔








