دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان کے عزم و ہمت کی کہانی

دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان محمد عامر کے عزم و ہمت کی کہانی جس نے اپنی زندگی کے بدترین حادثے کے باوجود امید نہیں کھوئی اور اپنی زندگی کا سفر جاری رکھا-

باغی ٹی وی :کشمیری نوجوان محمد عامر بازوؤں سے محروم ہیں لیکن وہ اپنی ریاستی ٹیم کے کپتان ہیں عامر نے 8 سال کی عمر میں اپنے باپ کی چکی پر ایک حادثے میں اپنے بازوؤں سے محروم ہو گئے تھے ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ان کے والد اپنا روزگار حاصل کرنے کے لئے کرکٹ بیٹ بناتے تھے-


لیکن کرکٹ کھیل کے لئے اس کے جذبے نے یہ کھیل کبھی نہیں چھوڑا محمد عامر کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد میرے ساتھ جو بھی بری چیزیں پیش آئیں جن بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس نے مجھے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے اور کچھ الگ کرنے کا قائل کرلیا-

اپنے بازوؤں سے محروم عمار بولنگ کرسکتا ہے اور اپنے پیروں ، گردن اور منہ کا استعمال کرتے وہ گیند پکڑ سکتا ہے –

عامر کے اس ایکسیڈینٹ کے بعد اس کے والد کو اس کا علاج کروانے کے لئے اپنی چکی اور زمین بیچنی پڑی لیکن پھر بی ڈاکٹر عامر کے بازوؤں کو بچانے میں ناکام رہے اور ان حالات میں عامر کو معاشرے میں قبول کرنا مشکل معلوم ہوا۔

ڈاکٹروں نے عامر کے والد کو کہا کہ وہ بیکار ہے اور اس کے والد کو اسے بچانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہئے تھا۔ 2 ماہ کے بعد جب عامر صحتمند ہو گیا تو اس نے واپس سکول جانا شروع کیا لیکن اساتذہ نے اسے کہا کہ اسے گھر میں ہی رہنا چاہئے کیونکہ تعلیم اس کے لئے نہیں ہے ۔

عامرخود کفیل ہے اور وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے اخروٹ بیچ کر کتابیں خریدتا ہے۔

عامر کا کہنا ہے کہ میں نے کبھی امید نہیں چھوڑی اور میں نے کبھی شکست قبول نہیں کی۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں زندگی میں آگے بڑھتا رہوں گا اور یہی میری خواہش رہی ہے-

ارطغرل ڈرامے کے معروف کردار دو تلواریں لیا ننھا بمسی سامنے آ گیا

بدترین معاشی مشکلات کا شکار بلوچ لوک فنکار واسو خان کس حال میں ہیں؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.