مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

مسئلہ کشمیر پر حقائق اور تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ مسئلہ کشمیر فقط ایک زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ ہے کوئی نظریہ یا اسلام کا مسئلہ نہیں ہے یہ تحریک آزادی کشمیر اور لاکھ سے زائد شہداء کے مقدس لہو کے ساتھ واضح ترین غداری ہے. یہ کوئی دو چار سالوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ قیام پاکستان سے قبل سے چلا آنے والا ایشو ہے جس کی بنیاد خالصتاً نظریہ اور مذہب پر کھڑی ہے. بھارت کی متشدد اور جنونی مذہبی حکومت کا کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت تبدیل کرنا بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ فقط زمین جائداد کا مسئلہ نہیں ہے، کشمیر کے سرخ سیبوں کی لڑائی نہیں ہے بلکہ مذہبی اور نظریاتی مسئلہ ہے یہی بات وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں کہی کہ بھارتی حکومت وہ اپنے نظریے پر کھڑی ہے اور ان کا نظریہ اکھنڈ بھارت اور ہندو تواء کا نظریہ ہے وہ اشوکا کا بھارت چاہتے جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی خلاف قدم اٹھارہے ہیں اور اپنے آئین کے بھی سراسر خلاف جا رہے ہیں. ایسے میں یہ سراسر تحریک آزادی کشمیر سے ناآشنائی والی بات ہے کہ بندہ اس مسئلہ کو فقط جائداد کا مسئلہ بنا دے. کشمیر کے مسئلے کا تعلق دو قومی نظریہ اور اسلام سے ہونے کی واضح ترین دلیل یہ ہے کہ بارہا بھارتی گورنمنٹ نے کشمیری نوجوانوں کو پیکجز کی آفر کی اور تعلیم و نوکری کے سبز باغ دکھائے مگر کشمیری حریت پسندوں نے ان تمام بھارتی آفرز و پیکجز کو جوتے کی نوک پر رکھا اور علیٰ الاعلان یہ کہا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے.کشمیریوں کے لیے یہ بڑا آسان ہے کہ اگر کشمیری پر امن ہوکر اپنے فروٹس اور دیگر چیزوں کو بھارت میں بیچنا شروع کردیں اور بھارتی بدلے میں کشمیر میں فلاحی پراجیکٹس کی تکمیل کرے لیکن وہ دو قومی نظریہ ہی ہے جو کشمیری نوجوانوں کو سنگینوں اور بکتر بند گاڑیوں کے مقابلے میں پتھر اٹھاکر سینہ سپر ہوجانے پر کھڑا کردیتا ہے. یہ اسلام اور نظریے کا ہی تعلق ہے کہ علی گیلانی، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر قاسم فکتو، مسرت بھٹ، شبیر شاہ، میرواعظ عمر فاروق، یسین ملک سے لے کر ہر چھوٹا بڑا کشمیری حریت رہنما یہ صدا بلند کرتا ہے کہ اسلام کے تعلق سے ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے. یہ کوئی زمینی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا نظریہ ہے جو ہر شہید ہوکر گرنے والے ایک کشمیری کی جگہ پر سو نوجوانوں کو کھڑا کردیتا ہے اور اس نظریہ کی حقانیت تو اب بھارتی کٹھ پتلیوں فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی تسلیم کرچکے اور کھلے الفاظ میں کہہ چکے کہ جناح کا دو قومی نظریہ درست تھا.ہمارے دانشور اور علماء اس کو زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ بتا کر اس سے منہ موڑے رکھیں لیکن اغیار بھی واضح طور پر یہ کہنا شروع ہوگئے کہ مسئلہ کشمیر اسلام و کفر کا معرکہ و مسئلہ ہے. گزشتہ روز واشنگٹن پوسٹ نے یہ آرٹیکل پوسٹ کیا کہ آرٹیکل 370 کا ختم ہونا ہندوازم کی اسلام پر فتح ہے. کتنی شرم کی بات اور مقام افسوس ہے کہ دشمن تو اس کو نظریہ اور اسلام و کفر کی جنگ سمجھ کر اس پر فتح کے شادیانے بجائیں اور ہم اس کو زمین کے ٹکڑے کی جنگ کہہ کر روگردانی اختیار کرجائیں.

Muhammad Abdullah

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.