قصور ( ڈسٹرکٹ رپورٹر طارق نوید سندھو سے ) لیسکو حکام قصور کے بجلی چوروں کے آگے بے بس ہوگئے، ایک سال میں 37 ارب 20 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بجلی چوری کرلی گئی، مقدمات درج ہونے کے باوجود اربوں روپے کی ریکوری نہ ہوسکی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لیسکو کے لیے قصور بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ لیسکو کے 7 سرکلز میں سب سے زیادہ بجلی چوری قصور سرکل میں رپورٹ ہوئی ہے۔

سیاسی مداخلت اور بااثر افراد کی پشت پناہی کے باعث لیسکو افسران بجلی چوروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر پاتے، اگر کوئی افسر جرات کا مظاہرہ کرے تو اسے مقامی اراکین اسمبلی کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ کئی افسران اور اہلکاروں پر تشدد کے واقعات بھی پیش آچکے ہیں۔

لیسکو دستاویزات کے مطابق بجلی چوری کی وجہ سے قصور سرکل میں پوری کمپنی کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ ایک سال میں 37 ارب، 20 کروڑ، 70 لاکھ روپے کی بجلی چوری ہوئی، مگر لیسکو افسران کو بجلی چوروں کے خلاف مقدمات درج کرانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور اگر مقدمات درج ہو بھی جائیں تو چوروں کو پکڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔

لیسکو ذرائع کے مطابق اگر قصور میں بجلی چوروں کو سیاسی پشت پناہی نہ ملے تو قومی خزانے کو سالانہ 40 ارب روپے کے نقصان سے بچایا جاسکتا ہے۔ قصور کے مختلف ڈویژنز میں بجلی چوری کے اعداد و شمار کے مطابق قصور رورل ڈویژن میں8 ارب 64 کروڑ 80 لاکھ روپے،پھول نگر ڈویژن میں 9 ارب 62 کروڑ 90 لاکھ روپے،چونیاں ڈویژن میں 9 ارب 38 کروڑ 70 لاکھ روپے،قصور سٹی ڈویژن میں 5 ارب 66 کروڑ 70 لاکھ روپے اورکوٹ رادھا کشن ڈویژن میں 2 ارب 87 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بجلی چوری کی گئی

ایک سال کے دوران بجلی چوروں کے خلاف 26 ہزار 9 سو 87 مقدمات درج کیے گئے، تاہم بجلی چوروں کو 84 کروڑ 89 لاکھ 63 ہزار روپے کے ڈی بل چارج کیے گئے، مگر صرف 33 کروڑ 68 لاکھ 67 ہزار 911 روپے کی وصولی ممکن ہوسکی۔ اس طرح قصور سرکل میں ریکوری کی شرح محض 40 فیصد رہی۔

لیسکو ذرائع کے مطابق بجلی چوری میں ملوث عناصر کو بااثر سیاسی خاندانوں کی سرپرستی حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ نشاندہی کے باوجود انتظامیہ کارروائی سے گریزاں ہے، اور لیسکو حکام بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

Shares: