قصور :پتوکی کے علاقے سرائےمغل میں ایک ماہ کے دوران بچیوں کو ورغلا کر جنسی زیادتی کرنے کا انکشاف ہوا جس کے بعد سے عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا یہاں تک کہ قصور کے بچوں کو بچاؤ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا-
باغی ٹی وی : ایک ہی علاقے میں ایک ماہ میں6 بچیوں سے زیادتی ،اطلاعات کے مطابق پنجاب کے علاقے پتوکی میں ایک ماہ کے دوران چھٹی بچی سے زیادتی کا کیس سامنے آیا جس پر علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا تو پولیس نے ملزم کی گرفتاری ظاہر کردی۔
ذرائع کے مطابق پتوکی کے علاقے سرائےمغل میں ایک ماہ کے دوران بچیوں کو ورغلا کر جنسی زیادتی کرنے کا انکشاف ہوا۔
ملزم کی عدم گرفتاری اور علاقے میں بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا اور بتایا کہ ملزم بچیوں کو ورغلا کر ویران جگہ لے جاکر زیادتی کرکےچھوڑ دیتا ہے۔
علاقہ مکینوں نے احتجاج کے دوران سڑک کو بلاک کیا اور ٹائر بھی جلائے۔ مظاہرین کا کہناتھا کہ ایک ماہ کے دوران زیادتی کے 6 واقعات ہوچکے ہیں جبکہ پولیس نے صرف دو مقدمات درج کیے۔
دوسری جانب پولیس نے حالیہ واقعے کی رپورٹ درج کر کے تحقیقات شروع کردیں، اس ضمن میں تفتیشی ٹیم نے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جس میں ملزم اپنے ساتھ بچی کو لے جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔
پولیس افسران نے مظاہرین کو ملزم کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے درندہ صفت شخص کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا، گرفتاری کے حوالے سے کارروائی کی جارہی ہے۔
کاروائی کے دوران یاسین نامی شخص کو گرفتار کیا گیا گرفتار ملزم یسین ریکارڈ یافتہ کریمنل نکلا۔لیکن اس سے پہلے وہ پکڑا کیوں نہیں گیا اس قدیم مہارت پرماہرین بھی حیران رہ گئے کیوں کہ 5 بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزم یسین نے کچھ سال قبل اپنی چاچی کو کلہاڑیوں کے وار سے قتل کیا تھا اور اپنی بھابی کی ڈنڈوں کے وار سے ٹانگیں بھی توڑ دی تھیں،
قصور پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ ان دونوں کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی تو مزاحمت پر اس نے ایسا کیا۔ ملزم کے خلاف ضلع ننکانہ میں مقدمات درج ہیں، دونوں مقدمات پولیس سسٹم کمپیوٹرائزڈ ہونے سے قبل کے ہیں اس لیے ٹریس نہیں کیے جا سکے ۔

ملزم یسین
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم یسین نے آج تک اپنا قومی شناختی کارڈ ہی نہیں بنوایا جس کی وجہ سے اس کا کریمنل ریکارڈ ڈھونڈنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈی پی او قصو ر کے مطابق اس کیس پر تشکیل دی گئی تفتیشی ٹیمیں ضلع ننکانہ روانہ کر دی گئی ہیں جہاں سے ملزم یسین کا مکمل ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے۔
کیونکہ ملزم یسین آبائی طور پر ضلع ننکانہ کا رہائشی ہے جو لمبے عرصہ سے قصور کی تحصیل پتوکی میں رہائش پذیر ہے۔
قصور میں آئے روز ان واقعات کو سن کر اور دیکھ کر شہری بھی پریشان ہوگئے ہیں اور ایسے لرزہ خیز واقعات دن بہ دن بڑھنے سے تشویشناک صورتحال نے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا جبکہ لوگوں میں شدید غم وغصے کی کیفیت کا بھی شکار ہیں اور ان واقعات کو روکنے اور مجرموں کو کیفردار تک پہنچانے کا مطالبہ کر رہے ہیں یہاں تک کہ قصورکے بچوں کو بچاؤ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے اور ہش ٹیگ فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے-
Yet children are abused. Children go missing. Children are abducted. Children are killed. And dead bodies of those children are thrown on a garbage heap or buried in shallow graves.@Pak_Guardian @IrfanQamar512
— Irfan Qamar (@IrfanQamar512) December 28, 2020
اس ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے عرفان قمر نامی صارف کا کہنا تھا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے۔ بچے لاپتہ ہوگئے۔ بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔ بچے مارے گئے۔ اور ان بچوں کی لاشوں کو کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا یا اتری قبروں میں دفن کردیا جاتا ہے-
#قصور_کے_بچوں_کوبچاو
More than six kids on average were subjected to sexual abuse in the period in Pakistan, Sahil said in its six-month "Cruel Number" report@Pak_Guardian— Jutt Bhadur (@xi_Hunter_xi) December 28, 2020
ایک صارف نے کہا کہ ساحل نے اپنی چھ ماہ کی رپورٹ میں کہا کہ اس عرصے میں اوسطاًچھ سے زیادہ بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا-
survivors often feel ashamed, embarrassed, and guilty about their ordeal and blame themselves for letting the incident happen, even though—and this cannot be stressed enough—it is not their fault.#قصور_کے_بچوں_کوبچاو@Pak_Guardian pic.twitter.com/gvMbhfVwq7
— Masood, (@Masood78613) December 28, 2020
مسعود نامی صارف نے کہا کہ زندہ بچ جانے والے افراد اپنی پریشانی کے بارے میں اکثر شرمندہ اور مجرم محسوس کرتے ہیں اور اس واقعے کو ہونے دینے کے لئے خود کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ، حالانکہ — اور اس پر کافی زور نہیں دیا جاسکتا ہے – یہ ان کی غلطی نہیں ہے۔
talking about sexual abuse should not be a one-off discussion, because sensitisation is a continuous process and parents should always be there to help their children, even during their teenage years.#قصور_کے_بچوں_کوبچاو@Pak_Guardian pic.twitter.com/5YkIeFLwpx
— Masood, (@Masood78613) December 28, 2020
اسی صارف نے لکھا کہ جنسی استحصال کے بارے میں بات کرنا یک طرفہ بحث نہیں ہونی چاہئے ، کیونکہ حساسیت ایک مستقل عمل ہے اور والدین کو اپنے بچوں کی مدد کے لئے ہمیشہ ساتھ رہنا چاہئے ، یہاں تک کہ نوعمری کے دوران بھی۔
Police in Hangu district of Khyber Pakhtunkhwa (KP) province of Pakistan, on Wednesday claimed to have arrested a young man who is suspected of being behind the sexual assault and murder of an eight-year-old girl, Madiha, in the area.@Pak_Guardian #قصور_کے_بچوں_کوبچاو
— 🦋SeحAR rajpUt💕 (@sariana110) December 28, 2020
ایک صارف نے لکھا کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا (کے پی) کے ضلع ہنگو میں پولیس نے بدھ کے روز اس نوجوان کو گرفتار کیا ہے جس کو شبہ ہے کہ اس نے اس علاقے میں آٹھ سالہ بچی ، مدیحہ کے جنسی زیادتی اور قتل کے پیچھے ملوث ہے۔
Symptoms of sexual abuse in older children and adolescents include
Depression,Nightmares,Poor school performance,Promiscuity,Substance abuse,Aggression,Running away from home,Fear of attack recurring,Eating disturbances,Suicidal gestures,Anger..@InayaO0— Inaya (@InayaO0) December 28, 2020
عنایہ نامی صارف نے لکھا کہ بڑے بچوں اور نوعمروں میں جنسی استحصال کی علامات شامل ہیں افسردگی ، ڈراؤنے خواب ، اسکول کی ناقص کارکردگی ، وعدہ خلافی ، زیادتی وغیرہ-
#قصور_کے_بچوں_کوبچاو
Child Abuse is unfortunately a common occurrence in Pakistan which tries to cover itself under the guise of religion but it is shocking and sad that pedophilia or child abuse is rampant in Pakistani society. @Pak_Guardian— Jutt Bhadur (@xi_Hunter_xi) December 28, 2020
ایک صارف نے لکھا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کا واقعہ ایک عام واقعہ ہے جو مذہب کی آڑ میں خود کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے لیکن افسوسناک اور افسوس کی بات ہے کہ پاکستانی معاشرے میں پیڈو فیلیا یا بچوں کے ساتھ بد سلوکی کا رجحان بہت زیادہ ہے۔
Adam and Eve both are God's "vicegerent" (khalifah) on earth. Both have been created in the "most beautiful form" (ahsan taqwim). The fact that they have different functions and responsibilities does not make one superior over۔!!!!! @Kurri0 pic.twitter.com/9n97vCVNuy
— Nini Malik👁🗨 (@Kurri0) December 28, 2020
ایک صارف نے لکھا کہ آدم اور حوا دونوں زمین پر خدا کے "نائب” (خلیفہ) ہیں۔ دونوں کو "انتہائی خوبصورت شکل” (احسن تقویم) میں تخلیق کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے مختلف افعال اور ذمہ داریاں ہیں ایک کو معتبر نہیں بناتا۔
طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا
لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار
پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے
خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار
موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی ،پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف
موٹر وے کے قریب خاتون سے اجتماعی زیادتی،سراج الحق کا ملزمان کی گرفتاری کیلئے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم
درندہ صفت مجرمان کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ دردانہ صدیقی
موٹروے زیادتی کیس،سی سی پی او کے بیان پر کابینہ کو معافی مانگنی چاہئے تھی،عدالت،ریکارڈ طلب
موٹرے پر سفر ذرا احتیاط سے، سینیٹر کی گاڑی پر حملہ،پولیس کا روایتی بیان،ملزم فرار
ریپ کے مجرموں کو نامرد بنانے کی بجائے کونسی سزا دینی چاہئے؟ انصار عباسی کی تجویز
بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران
موٹروے زیادتی کیس،گجرپورہ سے تفتیش تبدیل ،مرکزی ملزم کا شناختی کارڈ بلاک
